اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

امریکہ کی دوغلی پالیسی, پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار

datetime 14  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکہ کی دوغلی پالیسی ایک بار پھر سامنے آگئی،پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کردیا جبکہ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یہ بیان بھارت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایف سولہ طیارے دیئے جانے پر بھارت میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت میں دلچسپی کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کردیا، اس حوالے سے امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی پریشان کن ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھیں تاکہ کشیدگی میں کچھ کمی لائی جاسکے۔پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں مبینہ اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ان جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے اور پاکستان کے ساتھ ہونے والی ہر بات چیت میں یہ ہماری بحث کا موضوع ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہمارے اس بات کی بھی تشویش ہے جو واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورت حال کشیدہ ہے، اور یہ بھی واضح ہے کہ ہم ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، جس کی مدد سے کشیدگی میں کچھ کمی آئے گی۔پاکستانی مبصرین کے مطابق امریکہ نے یہ بیان بھارت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایف سولہ طیارے دیئے جانے پر بھارت میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری نے ان دعوو¿ں کو مسترد کیا تھا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تیزی سے پھیل رہا ہے، اور ساتھ ہی اسلام آباد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی فروخت کی اقوام میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔خارجہ سیکریٹری کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری سپلائر گروپ نے بھارت کو ‘امتیازی چھوٹ’ دی ہے اور امریکا بھارت کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ نئی دہلی کو اس کے ایٹمی مواد میں اضافے اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کو متاثر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔کارنیگی اور سٹمسن ریسرچ تنظیم کی جانب سے لگائے گئے ایک حالیہ اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس سالانہ 20 جوہری وارہیڈ بنانے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ بھارت سالانہ 5 وارہیڈ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف کم سے کم ایٹمی ڈیٹرنس حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے ایٹمی ڈیٹرنس اپنے دفاع کے لئے ہیں۔ اس کی حیثیت اسٹیٹس حال کرنے کی نہیں ہے۔انھوں نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کی جانے والی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے گزشتہ 15 سالوں سے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات کی امریکا نے ‘صاف الفاظ میں’ تعریف کی ہے۔امریکن ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل وینسینٹ سٹیورٹ نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…