منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ہماری سزائے موت پر انگلی اٹھانے والوں کے اپنے ملک میں کیا ہو رہا ہے کلک کر کے ملاحظہ کریں

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن: امریکی عدالت نے دوہرے قتل کے مجرم  کو سزائے موت دینے کا حکم دے دیا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے مجرم کو زہریلا انجیکشن لگا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  امریکی ریاست جوریا کی مقامی عدالت نے 2 افراد کو قتل کرنے والے 54 سالہ مجرم کو سزائے موت دینے کا حکم دیا جس پر مجرم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ 54 سالہ وارن ہل ذہنی مریض ہے  اس لئے قانون کے مطابق سزائے موت نہیں دی جاسکتی جب کہ ڈاکٹروں نے بھی ہل کے ذہنی مریض ہونے کی تصدیق کی ہے  تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا حکم جاری کردیا جب کہ  جیل خانہ جات کی ترجمان کے مطابق 54 سالہ وارن ہل کو عدالتی احکامات کی روشنی میں  مقامی وقت کے مطابق  رات 7 بجکر 55 منٹ پر زہریلا انجیکشن لگا کر اس کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب  یورپی یونین ، وکلا ، ڈاکٹر زاور معتبر شخصیات جس میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی شامل ہیں نے وارن ہل کی معافی کی عدالت سے درخواست کی  تھی جب کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے بعدجمی ہل کے وکیل کا کہنا تھا کہ سزائے موت پر عملدرآمد مکروہ فعل ہے اور وارن ہل کی موت ریاستی قوانین پر سیاہ دھبہ ہے۔

واضح رہے کہ وارن ہل  پر 1990 میں اپنی محبوبہ اور اس کے ہمنوا کو قتل کرنے کا الزام تھا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزائے موت دی گئی تھی تاہم متعدد باراس کی اپیلوں پر اسے سزائے موت نہیں دی جاسکی تھی جب کہ   امریکا کے قانون کے مطابق  بھی  ذہنی مریض مجرم کو سزائے موت دینا ممنوع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…