اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کے قیام پر وفاق سے جواب طلب

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |
فائل فوٹو

اسلام آباد…….سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواست پر وفاق اور چاروں صوبوں کو نوٹس جاری کر دیئے۔

چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی پیروی حامد خان نے کی۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے عجلت میں 21ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی، قومی اسمبلی میں مختصر بحث کے بعد 6جنوری کو ترمیم کی منظوری دی گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینیٹ میں بغیر کسی بحث کے اسی روز بل کو منظور کیا گیا۔

جسٹس گلزار احمد نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ اس ترمیم میں ایک فریق تھے۔

حامد خان نے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ بار کی درخواست کی پیروی کر رہے ہیں، وہ پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اے پی سی کی طرف سے بنائی گئی قانونی کمیٹی میں میں نے کھل کر اس ترمیم کی مخالفت کی، خوش قسمتی سے میری جماعت کے 34 ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 3-175 متاثر ہوا جو عدلیہ کو ایگزیکٹیو سے الگ کرتا ہے، آئینی ترمیم سے آرٹیکل A-2 بھی متاثر ہوا جس میں عدلیہ کی آزادی کے مکمل تحفظ کی بات کی گئی ہے، آرٹیکل 8 بھی متاثر ہوا جو بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا آئینی ترمیم قانون ہے۔

حامد خان نے کہا کہ یہ مفاد عامہ سے متعلق ایک اہم مقدمہ ہے۔

چیف جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا ہے،ہم اٹارنی جنرل اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔

عدالت نے وفاق اور چاروں صوبوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12فروری تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…