جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

شرجیل میمن نے عزیر بلوچ سے متعلق اہم انکشاف کر دیا

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوذ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سے ماضی میں ملاقاتوں کی تصدیق کر دی۔عزیر کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے اور ان پر کراچی کے علاقے لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔عزیر 2013 میں حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہوئے تھے۔حکومت سندھ متعدد بار عزیر کے سر کی قیمت مقرر کر چکی ہے جبکہ ان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔لندن سے ڈان نیوز کے پروگرام ‘جائزہ’ میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل نے تصدیق کی کہ وہ عزیر بلوچ سے دو، تین بار ملے لیکن ان ملاقاتوں کا مقصد لیاری کے متحارب گروپوں میں مصالحت کرانا تھا۔میں نے عزیر بلوچ سمیت کسی سے کوئی تحفہ نہیں لیا، میں ان لوگوں میں سے نہیں جو لوگوں سے تحائف لیتا رہوں۔ایک اور سیاسی رہنما نبیل گول نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ شرجیل میمن کے پاس موجود گاڑی عزیر بلوچ نے انہیں بطور تحفہ دی تھی۔شرجیل میمن نے کہا کہ ان کی عزیر کے ساتھ کوئی تصاویر نہیں، تاہم وہ گینگ وار سرغنہ سے کچھ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔شرجیل میمن نے ان ملاقاتوں کی وجہ کچھی رابطہ کمیٹی اور امن کمیٹی کے درمیان جھڑپیں قرار دیا۔ان ملاقاتوں میں میرے ساتھ اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور دیگر پیپلز پارٹی رہنما بھی موجود ہوا کرتے تھے۔نیبیل گبول کے حوالے سے شرجیل کا کہنا تھا کہ ان سے پوچھا جائے کہ ان کے عزیر بلوچ اور رحمان ڈکیت کے ساتھ کیا مراسم تھے۔اپنے اوپر گینگ وار کی مدد کے الزام مسترد کرتے ہوئے شرجیل نے الزام عائد کیا کہ نبیل غفار ذکری اور ارشد پپو گینگز کی حمایت کرتے تھے۔انہوں نے پوچھا کہ عزیر کی گرفتاری کے بعد سے صرف پی پی پی رہنماں کو ہی کیوں ہدف بنایا جارہا ہے؟ مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے رہنماں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جارہی۔انٹرویو کے دوران سابق وزیر اطلاعات نے اپنے اوپر کرپشن کیسز کا سامنے کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب ملک واپس آئیں گے۔شرجیل کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب)نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں درج کروایا لیکن کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لئے کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی کبھی انہیں بلایا گیا۔بیرون ملک جانے کے بعد میرا نام ای سی ایل میں ڈالنا تشویشناک تھا، ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔جب شرجیل سے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے دو روز بعد بیرون ملک منتقل ہونے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بیٹے کے ایڈمیشن کی وجہ سے ملک سے باہر گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…