منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل باز نہ آیا، گستاخانہ رسالہ کی مفت تقسیم، جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 27  جنوری‬‮  2015 |

یروشلم: اسرائیل میں فرانس کے رسالے “چارلی ایبڈو” کی کاپیاں مفت تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ اویدگر لائبرمین کی جماعت اسرائیل بیتینو پارٹی کے کارکنوں نے نے فرانسیسی رسالے کی متعدد کاپیاں خرید لی ہیں جنہیں مفت تقسیم کیا جائے گا۔ آئرئش ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی میں موجود مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ملک سب سے بڑے کتابوں کا کاروبار کرنے والی چین سٹیماتزکے نے بھی فرانس سے منگوائے گئے 700 میگزین فروخت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سٹیماتزکے کے فیصلے کےبعد لیبر مین نے اپنے کارکنوں کو اس میگزین کے حالیہ شمارے خریدنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار رائے کا مسئلہ ہے۔ وزیر خارجہ لائبر مین نے کہا ہے کہ ‘اسرائیل کو اسلامک اسٹیٹ نہیں بننے دیا جائے گا، یہاں شدت پسند مذہب لاگو نہیں کیا جانے دیا جائے گا اور کسی کی دھمکیوں کے بعد آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی’۔
واضح رہے کہ فرانس کے میگزین چارلی ایبڈو نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کیے تھے جس کے بعد پوری دنیا میں اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عیسائیوں کے مذہبی پیشواء نے بھی اس کی شدید مذمت کی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل کے پارلیمان (کینسات) کے القائمة العربية الموحدة‎ کے مسلم رکن مسعود غنیام نے اس حوالے سے وزیر اعظم نیتن یاہو کو رسالے کی تقسیم کے حوالے سے خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور کم عقلی کا اقدام ہے. مسعود غنیام نے مزید کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کے عقائد سے کھیلنے کے مترادف ہے، جس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب مسلمانوں کے عقائد کا مذاق اڑایا جائے تو اس کو آزادی اظہار رائے کا نام دیا جاتا ہے جبکہ یہودیوں کے حوالے سے کوئی بھی بات “یہود دشمنی” قرار دی جاتی ہے۔ مسعود غنیام کے خط پر اسرائیل کے وزیر خارجہ لائبر مین نے کہاہے کہ اسرائیل میں موجود عرب رہنماوں نے ایک اور “ریڈ لائن” عبور کر لی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی کتابوں کی فروخت کی سب سے بڑی چین نے کہا ہے کہ اس کو کسی بھی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی بلکہ اس نے فیصلہ اپنے صارفین کی شکایات کے بعد کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…