ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

پنجاب حکومت کا شراب کی کمائی حرام قراردینے سے انکار

datetime 5  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے شریعت کی روسے شراب کی آمدنی کو حرام کمائی قراردینے سے انکار کرتے ہوئے قانونی ذریعہ آمدنی قراردیا ہے اور اس کمائی کو ترک نہ کرنے پر اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں احتجاج کیا ہے اور اس معاملے پر اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی سے واک آو¿ٹ بھی کیا ہے تاہم حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ شراب مذہبی طور پر حرام ہے لیکن قانون کے تحت اس کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کیا جاتا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی غیر مسلم رکن نے بھی شراب کی فروخت کے پرمٹ جاری کرنے پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا لیکن سپیکر نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔ جمعرات کو سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر نے شراب کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام قراردینے اور یہ آمدنی ترک کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ شراب اسلام میں حرام اور ممنوع ہے اس کا کاروبار بند کیا جائے جس پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ محکمہ ایکسائز قانون کے تحت شراب فروخت کرنے اور خریدنے کیلئے غیر مسلموں کو پرمٹ جاری کرتا ہے اور اس سے آمدنی حاصل کرتا ہے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے مطالبہ کیا جب شراب اسلام میں حرام اور ممنوع ہے تو قانون کا سہارا نہیں لینا چاہئے اور آئندہ اس کا کاروبار بند کردینا چاہئے جس پر وزیر ایکسائز نے کہا کہ محکمہ ایکسائز پہلے سے موجود قانون کے تحت کام کررہا ہے اور 1979کیحدود ایکٹ کے تحت عیسائیوں سمیت غیر مسلموں کو پرمٹ جاری کرتا ہے۔یہ ایوان اس کی فروخت پر پابندی لگانے کیلئے قانون سازی کرلے تو محکمہ اس پر عمل کرے گا ، اپوزیشن اس ضمن میں قانون سازی کرے تو ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ اپوزیشن کی قانون سازی کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس سے سب آگاہ ہیں ، یہ کام حکومت کرے ، اس مرحلے پر مسیحی رکن ذوالفقار غوری نے کہا عیسائیت سمیت کسی مذہب میں شراب نوشی کو جائز نہیں قراردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحیوں کو بھی شراب کے پرمٹ جاری کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جسے جاری کیا جارہا ہے وہ اس کا استعمال کیسے کرے گا۔اس مرحلے پر اپوزیشن نے شراب کی فروخت پر پابندی لگانے اور شراب کی آمدنی کے حرام قراردلانے کیلئے ایک منٹ کا علامتی واک آو¿ٹ کا اعلان کیا اور تمام ارکان سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کی لیکن حکومتی بنچوں سے کوئی رکن بھی اس کا حامی نہ نکلا اور صرف اپوزیشن ارکان نے علامتی واک آو¿ٹ کیا۔ اس محلے پر وزیر ایکسائز نے کہا یہ بات بالکل واضح ہے کہ شراب اسلام میں حرام ہے۔ انہوں نے مسیحیوں پر تنقید کرتے ہوئے مسیحی اکثریتی آبادی والے ممالک مین شراب خانوں کا حوالہ دیا تو سپیکر نہیں ایسا کرنے سے وک دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…