اسلام آباد (نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک متفرق درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کے دوران سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نظربندی کے دوران دوست ملک نے سفارتی ذرائع سے سیاسی پناہ کی پیش کی جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دی تھی۔ درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور صوبائی وزرائے اعلیٰ سے بیان حلفی لیا جائے کہ افتخار چوہدری اور ان کے خاندان کو سیکورٹی خدشات نہیں اور اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار حکمران ہوں گے۔ مذکورہ درخواست سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سیکورٹی خدشات کے باعث بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کے عدالتی فیصلہ کے خلاف وفاق کی انٹرا کورٹ اپیل میں دائر کی گئی ہے جس کی سماعت 4 فروری کو ہو گی۔ شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے بعد گھر میں نظربندی کے دوران سابق چیف جسٹس کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ، افتخار چوہدری کو سفارتی ذرائع سے ایک دوست ملک نے کچھ عرصہ کے لئے پاکستان چھوڑنے کا کہا مگر انہوں نے شکریہ کے ساتھ پیشکش مسترد کر کے سیاسی پناہ قبول نہیں کی ، اگر افتخار محمد چوہدری سے بلٹ پروف گاڑی واپس بھی لی گئی تو وہ ملک نہیں چھوڑیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سکولوں میں داخلے کیلئے عمر کی نئی حد مقرر، والدین کی پریشانی میں اضافہ
-
تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی، طلبا کے لئے اہم خبر
-
کل تمام دفاتر بند رکھنے کا اعلان
-
یہ 6 ادویات ہرگز نہ خریدیں ! ہنگامی الرٹ جاری
-
پرانی امپورٹڈ گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
پنجاب حکومت کا ملازمین کی تنخواہ سے متعلق بڑا فیصلہ
-
سسٹم لگوانے والے تمام صارفین کیلئے نئی شرط عائد
-
گریٹ گیم(چوتھا حصہ)
-
اسلام آباد،وی آئی پی روٹ سے جعلی خاتون ٹریفک پولیس اہل کار گرفتار
-
سعودی عرب کا اعتراض، پاکستان نے سوڈان کیساتھ ڈیڑھ ارب ڈالرز کے ہتھیاروں اور لڑاکا طیاروں کی ڈیل مؤخ...
-
سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑی کمی
-
چین سے سامان لانے والے تاجروں کے لیے ٹیکس چھوٹ! بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے اور چاندی کی قیمت میں دوسرے روز بھی کمی
-
قومی کرکٹر محمد نواز ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر بڑی مشکل میں پھنس گئے



















































