اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سال بعد ہونے والی مردم و خانہ شماری ایک بار پھر ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، پاکستان میں آخری مردم شماری1998ءمیں ہوئی تھی اور آئین کے مطابق ہر 10 سال بعد مردم شماری ضروری ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق چھٹی مردم و خانہ شماری مارچ کے آخری ہفتے میں شروع ہونی تھی اس کے لیے کم از کم 2 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہے جو تقریبا 1ماہ تک یہ ڈیوٹی سر انجام دینگے، تاہم اس وقت مسلح افواج کراچی، کے پی کے ، فاٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں مختلف قسم کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اس لیے مطلوبہ تعداد میں فوجی اہلکار نہیں مل سکتے۔مشترکہ مفادات کی کونسل کے فیصلے کے مطابق مردم شماری والی ہر ٹیم کے ساتھ کم از کم فوج کا ایک اہلکار ضرور ہو گا، ذرائع کے مطابق مردم شماری کا کام مرحلہ وار نہیں ہو سکتا، اسی طرح اگرفوج کے بغیر مردم شماری کی جاتی ہے تو یہ مستند نہیں سمجھی جائے گی
ملک میں چھٹی مردم و خانہ شماری ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
اپنا گھر اسکیم کیلیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کردی گئی
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
منقطع سوئی گیس کنکشنز کی بحالی کیلئے کڑی شرائط عائد
-
حوثی کون ہیں اور سعودی عرب پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی
-
پاکستانی ای پاسپورٹ کی نئی فیسوں کا شیڈول جاری کردیا گیا



















































