پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

آٹو پالیسی میں تحفظ صارف حقوق پر آٹو سیکٹر کو اعتراض

datetime 18  جنوری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے گاڑیوں کی بروقت ڈلیوری نہ کرنے پر صارفین کو تادیبی ڈسکاو¿نٹ کی شرط سمیت صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دیگر تجاویز پر اعتراض کردیا ہے۔آٹو سیکٹر کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے آٹو پالیسی کے مسودے میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مجوزہ اقدامات کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اعتراض انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو ارسال کردیے ہیں۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں گاڑی کی بکنگ کے وقت 100فیصد ایڈوانس قیمت وصول کرتی ہیں جبکہ گاڑیوں کی تاخیر سے ڈلیوری کی وجہ سے صارفین کو آٹو ڈیلرز کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا سامنا ہوتا ہے اور کم وقت میں گاڑی کی ڈلیوری کے لیے اضافی رقم (پریمیم) ادا کرنا پڑتا ہے۔بعض کمپنیاں بکنگ کے وقت 50فیصد نقد اور 50فیصد پوسٹ ڈیٹڈ چیک کے ذریعے قیمت وصول کرتی ہیں تاہم نئی آٹو پالیسی میں ان شرائط کی وجہ سے صارفین کو پیش آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 2ماہ کے اندر گاڑی کی ڈلیوری یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ گاڑیوں کی ڈلیوری میں 2 سے زائد کا عرصہ لگنے کی صورت میں یومیہ بنیادوں پر ڈسکاو¿نٹ کی ادائیگی کو پالیسی کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی تھی جس کے تحت صارفین کو تاخیر سے گاڑیاں ڈلیور کرنے والی کمپنی گاڑی بک کرانے والے صارف کو کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ(کائبور) پلس دو فیصد کی شرح سے ڈسکاو¿نٹ دینے کی پابند ہوگی۔اس تجویز کا مقصد آٹو کمپنیوں اور ان کے مجاز ڈیلرز کے مبینہ گٹھ جوڑ کے ذریعے بلیک منی کے رجحان کو ختم کرنا ہے۔ آٹو پالیسی کے مسودے میںگاڑیوں میں نقص کی صورت میں مارکیٹ سے نقص زدہ گاڑیوں کی واپسی کے لیے عالمی طریقہ کار کی طرح مربوط نظام کی ضرورت پر بھی دیا گیا تاہم انڈسٹری کا کہنا ہے کہ پاکستانی گاڑیوں میں نقص کا امکان بہت کم ہے اور اگر کسی ماڈل یا گاڑیوں میں نقص پایا جاتا ہے تو کمپنیاں اپنی اندرونی پالیسی کے تحت فوری طور پر اس طرح کی گاڑیاں مارکیٹ سے لے کر نقص دور کرتی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…