ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بھارتی آرٹسٹ کی کہانی جس کا تصویر بنانا اس کی سات سمندر پار محبت کا باعث بن گیا

datetime 7  جولائی  2016 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک)وہ دہلی کی ایک سرد شام تھی جب سنہ 1975 میں سویڈن سے آنے والی شارلوٹ وان شیڈ ون نے بھارتی آرٹسٹ پی کے مہا نندیا سے اپنی تصویر بنانے کے لیے کہا تھا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محبت کی خاطر بھارت سے یورپ تک سائیکل سے سفر کی ایک کلاسیکل کہانی ہے۔شارلوٹ شیڈون بطور سیاح بھارت آئی تھیں جب انھوں نے دہلی کے کناٹ پلیس میں مہا نندیا کو تصویریں بناتے دیکھا تھا۔ مہا نندیا اس وقت تک خاکہ بنانے والے آرٹسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنا لی تھی اور مقامی اخبارات میں ان کا نام شائع ہوتا تھا۔مہانندیا دس منٹ میں کسی کی بھی تصویر بنانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اسی سے متاثر ہو کر شارلوٹ نے اپنی تصویر بنوانے کا فیصلہ کیا لیکن جو تصویر بنی اس سے شارلوٹ مطمئن نہیں ہوئیں اور اگلے روز پھر آنے کا فیصلہ کیا۔مہا نندیا نے اگلے دن جو تصویر بنائی وہ بھی بہت اچھی نہیں تھی۔ اپنے دفاع میں مہانندیا نے کہا کہ تصویر بناتے وقت ان کے ذہن میں برسوں پہلے ان کی ماں کی جانب سے کی گئی ایک پیشین گوئی چل رہی تھی۔ریاست اڑیسہ کے رہنے والے مہانندیا دلت برادری سے ہیں اور بچپن میں انھوں نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور اعلیٰ ذات کے طالب علموں کے تعصب کو محسوس کیا تھا۔مہانندیا جب بھی اداس ہوتے تو ان کی ماں ان سے کہتی تھیں کہ ایک دن ان کی شادی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والی لڑکی سے ہوگی جو دور ملک سے آئے گی اور وہ خود اپنے جنگل کی مالک ہوگی۔جب مہانندیا کی ملاقات شارلوٹ سے ہوئی تو انھیں اپنی ماں کی پیشن گوئی یاد آئی۔ انھوں نے شارلوٹ سے پوچھا کہ کیا وہ جنگل کی مالک ہیں؟شارلوٹ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس نہ صرف اپنا جنگل ہے بلکہ ان کی موسیقی میں بھی دلچسپی ہے۔

مہا نندیا نے بی بی سی کو بتایا ’میرے اندر سے آواز آئی کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ اپنی پہلی ہی ملاقات میں ہم ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچتے چلے گئے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیوں ان سے سوال پوچھے اور چائے کے لیے بھی مدعو کیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ وہ پولیس کو شکایت کر دیں گی۔‘لیکن شارلوٹ کی رائے بالکل مختلف تھی۔ شارلوٹ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے وہ ایمان دار لگے اور میں بھی یہ جاننا چاہتی تھی کہ انھوں نے اس طرح کے سوالات مجھ سے کیوں کیے۔‘دونوں کے درمیان کئی بار بات ہوئی اور شارلوٹ مہا نندیا کے ساتھ اڑیسہ جانے کو تیار ہوگئیں۔وہ بتاتی ہیں ’جب پی کے نے مجھے کونارک مندر دکھایا تو میں جذباتی ہو گئی۔ لندن میں جب میں پڑھائی کر رہی تھی تب مندر کے پہیے کی تصویر میرے کمرے میں لگی تھی۔ لیکن اس وقت مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ جگہ کہاں ہے۔اور اس روز میں اسی مندر کے باہر کھڑی تھی۔‘دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی گئی اور کچھ دن مہا نندیا کے گاؤں میں گزارنے کے بعد وہ دہلی واپس آئے۔مہاندیا یاد کرتے ہیں ’جب وہ پہلی بار میرے والد سے ملیں تو انھوں نے ساڑھی پہن رکھی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ایسا کس طرح کیا۔ میرے والد اور خاندان کی اجازت سے ہم نے قبائلی روایت کے تحت شادی کر لی۔‘شیڈون مشہور ہپّی ٹریل روٹ سے یورپ، ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان کے راستے سڑک سے 22 دنوں میں بھارت پہنچی تھیں۔ مہاندیا سے سویڈن میں ان کے شہر بوراس آنے کا وعدہ لے کر وہ اسی راستے سے واپس لوٹ گئیں۔
ایک سال سے زیادہ وقت گزر گیا۔ دونوں خطوط کے ذریعہ رابطے میں رہے۔ لیکن مہانند?ا کے پاس ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے جمع نہیں ہوئے۔انھوں نے جو کچھ بھی پاس تھا سب فروخت کرکے ایک سائیکل خرید لی اور یورپ کے لیے اسی ہپّی ٹریل روٹ کو پکڑ لیا جس سے شارلوٹ بھارت آئی تھیں۔22 جنوری 1977 کو انھوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور وہ روزانہ تقریبا 70 کلومیٹر سائیکل چلاتے تھے۔مہانندیا یاد کرتے ہیں ’راستے میں خرچ کرنے کے لیے میں نے اپنے فن کا استعمال کیا۔ میں لوگوں کی تصویر بناتا اور وہ کچھ پیسے دے دیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کھانے اور رہنے کی جگہ بھی دی۔‘

مہاندیا یاد کرتے ہیں کہ 70 کے عشرے میں دنیا بہت مختلف تھی۔ زیادہ تر ممالک میں داخل ہونے کے لیے انھیں ویزا کی ضرورت نہیں پڑی۔افغانستان میں لوگ اردو سمجھ لیتے تھے لیکن جب ایران میں داخل ہوئے تو بات کرنے میں مشکلیں آئیں۔ لیکن ان کے فن نے مہانندیا کا ساتھ دیا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ محبت عالمی زبان ہے اور لوگ اسے سمجھتے ہیں۔‘لیکن کیا انھیں اس طویل سفر میں کبھی تھکن محسوس نہیں ہوئی؟ ’جی ہاں، بہت بار۔ میرے پیر دکھنے لگتے تھے لیکن شارلوٹ سے ملنے اور نئے مقامات دیکھنے کا جوش مجھے حوصلہ دیتا رہتا۔‘استنبول ہوتے ہوئے آخرکار وہ 28 مئی کو یورپ پہنچ گئے۔ پھرگوتھنبرگ تک کا سفر انھوں نے ریل سے کیا۔ پھر دونوں نے سویڈن میں سرکاری طور پر شادی کر لی۔وہ کہتے ہیں ’مجھے یورپی ثقافت کا کوئی علم نہیں تھا۔ میرے لیے سب کچھ نیا تھا۔ شارلوٹ نے ہر قدم پر میری مدد کی۔ وہ بہت خاص ہیں۔ میں آج بھی انھیں ویسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے کہ سنہ 1975 میں کرتا تھا۔‘64 سالہ مہانندیا اب شارلوٹ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ سویڈن میں ہی رہتے ہیں اور آرٹسٹ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…