اسلام آباد(نیوزڈیسک) عام طورپرکسی بھی شخص سے کوئی غلطی ہوجائے توفوری طورپروہ ’’سوری ‘‘کے الفاظ استعمال کرتاہے اورمعاملہ رفع دفع ہوجاتاہے تاہم ’سوری‘ کہنا عام طور پر اچھی عادات و اطوار کی علامت گردانا جا سکتا ہے لیکن خواتین کی مدد کے لیے تیار کی جانے والی ایک نئی اَیپ ’جَسٹ ناٹ سوری‘ اْنہیں حد سے زیادہ مرتبہ معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے سے روکتی ہے۔گزشتہ سال 28 دسمبر کو لانچ ہونے والی اِس اَیپ کو اب تک 53 ہزار افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔یہ اَیپ امریکی شہر نیویارک کی سافٹ ویئر تیار کرنے والی ایک کمپنی سائرس انوویشن کی تینتیس سالہ سربراہ ٹامی رائس نے تیار کی ہے۔ ٹامی رائس کی قیادت میں اس کمپنی میں اٹھارہ افراد کام کرتے ہیں۔کامیاب کاروباری خواتین کے ایک اجتماع میں ٹامی رائس نے محسوس کیا کہ سبھی خواتین کو ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا کہ وہ مسلسل ایسے لفظ استعمال کر رہی تھیں، جو اْن کی اتھارٹی یا اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے تھے۔ رائس نے سوچا کہ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے ۔اپنی اسی سوچ کے تحت اْنہوں نے ’جَسٹ ناٹ سوری‘ کے نام سے ایک نئی اَیپ تیار کر ڈالی، جسے کچھ لوگ حقوقِ نسواں کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے سراہ رہے ہیں تو دیگر اسے ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔سرِدست یہ اَیپ صرف جی میل اور گوگل کروم کے لیے ہے اور صرف انگریزی زبان میں دستیاب ہے۔ جیسے ہی کسی عبارت میں ’سوری‘، ’میرا خیال ہے‘ یا ’میں کوئی ماہر تو نہیں ہوں‘ جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں تو یہ اَیپ فوراً نشاندہی کرتی ہے اور ایسے الفاظ کے استعمال سے خبردار کرتی ہے۔ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے ایک جائزے کے مطابق مفت دستیاب اس اَیپ کو، جسے اٹھائیس دسمبر کو لانچ کیا گیا تھا، اب تک 53 ہزار افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔یہ اَیپ مزید جن انگریزی الفاظ کے استعمال سے خبردار کرتی ہے، اْن میں ’جَسٹ‘ ، ’ایکچوئلی‘ اور ’ٹرائی‘ بھی شامل ہیں۔ ٹامی رائس کا کہنا ہے کہ خواتین یہ الفاظ کثرت سے استعمال کرتی ہیں اور اس سے اْن کا مقصد اپنی بات میں نرمی پیدا کرنا یا خود کو زیادہ پسندیدہ بنانا ہوتا ہے۔ ٹامی رائس کے مطابق اگر ایسی خواتین کہیں ملازمت کرتی ہیں تو پھر اپنے اس طرح کے الفاظ سے وہ اپنی عزت خود ہی گھٹا لیتی ہیں اور یوں اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر لیتی ہیں۔صارفین کے مطابق جب سے اْنہوں نے یہ اَیپ استعمال کرنا شروع کی ہے، اْنہوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ لکھنے میں بھی اور بات چیت کے دوران بھی ایسے الفاظ استعمال کرنے کے سلسلے میں محتاط ہو گئے ہیں، جن سے کسی کی دلآزاری کا پہلو نکل سکتا ہو۔اَیپ تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’سوری‘ جیسے الفاظ لکھنے یا بولنے والے کی اتھارٹی یا اثر و رسوخ کو کمزور کرتے ہیں رائس نے کہا کہ اگرچہ یہ اَیپ خواتین کے لیے تیار کی گئی ہے لیکن اس سے مرد بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ خواتین ہی میں سے کچھ حلقوں نے اس اَیپ کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور کچھ مطالعاتی جائزوں کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ نرم اور دھیمے الفاظ ہی کی وجہ سے تو خواتین بھی اْتنی ہی کامیابی حاصل کرتی ہیں، جتنی کہ مرد۔ اْن کے خیال میں اس اَیپ کی خامی یہ ہے کہ اس کے ذریعے خواتین اپنے اس ’خفیہ ہتھیار‘ سے دستبردار ہو جائیں گی
ایسی ایپ تیار،جس کے بارے میں جان کرمردحضرات ناخوش ،خواتین خوش ہوجائیں گی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
مئی میں موسم کیسا رہے گا؟محکمہ موسمیات کا نیا الرٹ جاری



















































