منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چین میں پیش آیا ایک ایسا واقعہ جس سے دنیا رہ گئی حیران

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

بیجنگ: اولاد کی محبت  تو کوئی والدین سے پوچھے لیکن جدائی کا غم اس  سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے جو کبھی کبھی والدین کے لیے زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے لیکن اگر اچانک ان کو اپنی کھوئی ہوئی اولاد مل جائے تو زندگی میں روشنی اور خوشی لوٹ آئی ہے کچھ ایسا ہی ہوا چین میں جہاں 24 سال قبل اغوا کیا جانے والا بچہ باپ کو تو مل گیا لیکن ماں اس کا انتظار کرتے کرتے دنیائے فانی سے ہی رخصت ہوگئی۔

سن بن جب اپنے والد سے پولیس اسٹیشن میں ملا تو وہ فرط جذبات میں اپنے آنسووں پر قابو نہ پا سکا اور اپنے والد اور بہن سے گلے لگ کر خوب رویا جس میں والد کے ملنے کی خوشی اور ماں کی جدائی کے غم کے دونوں آنسو شامل تھے۔ چین کے صوبے سیچوان  کے ایک ٹاؤن سے 1991 میں 4 سال کے سن بن لی کوانسانی اسمگلنگ کرنے والے افراد نے سبزی مارکیٹ سے اغوا کرکے ان کے گھر سے ہزاروں میل دور جیانگ سو صوبہ میں بیچ دیا تھا۔ بچے کی تلاش میں سن بن کے والدین مارے مارے پھرتے رہے اور قریبی صوبوں اور علاقوں کا کئی کلومیٹر کا سفرکیا لیکن ان کی کوششیں رائیگاں گئیں، سن بن کے والد سن یوہونگ کاکہنا تھا کہ اس کی بیوی بیٹے کے غم سے نہ سنبھل سکی اور اسی درد میں وہ 1996 میں کینسر کے مرض کا شکار ہوکر 2006 میں اس دنیاس سے چل بسیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کو دوبارہ دیکھنا میری بیوی کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی اوروہ اکثر سن بن کا نام سوتے میں بھی لیتی  رہتی تھی لیکن یہاں آج مجھے بیٹے کی ملنے کی بے انتہا خوشی ہے وہیں اس کی ماں کے نہ ہونے کا غم بھی اتنا ہی شدید ہے۔

سن بن نے میڈیا سے گفتگو میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ میرے والدین کون ہیں اور میرا گھر کہاں ہے  لیکن جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا اپنے خاندان سے ملنے کا جذبہ اتنا ہی بڑھتا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اکتوبر 2014 میں اپنا ڈی این اے صوبہ جیانگ سو کے پولیس اسٹیشن پر چھوڑا تھا اور کچھ ہی عرصے بعد وہاں سے کال آگئی کہ آپ کا خون میچ ہوگیا ہے جسے سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور بالآخر میں اپنے والد سے مل گیا لیکن والدہ کی وفات کا سن کر میری خوشی آدھی رہ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…