جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مشتبہ مدارس کے اکاؤنٹس خالی: ’حساس ادارے پریشان

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

لاہور،اسلا م آ با د(نیوزڈیسک) پنجاب میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مشتبہ قرار دیئے جانے والے 200 مدارس کے بینک اکاؤنٹس سے کوئی ایک بھی اہم ٹرانزیکشن سامنے نہیں آسکی۔اس بات نے فورسز مجبور کردیا ہے کہ وہ ان مدارس کی جانب سے رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے کسی دوسرے طریقہ کار کی پڑتال کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔مشتبہ مدارس کی مانیٹرنگ کرنے والے ایک عہدیدار نے نجی ٹی وی کو بتایا ہے کہ مدارس کے اکاؤنٹس میں صرف چند ہزار روپے ہی موجود ہیں اور یہ بات تشویش میں اضافہ کررہی ہے کہ یہ مدارس رقم کی منتقلی کے لیے کوئی دوسرا طریقہ کار اختیار کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مدارس اپنے نام سے یا کسی دوسرے فرد کے نام سے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال یا پھر براہ راست کیش جمع کیا کرتے تھے۔عہدیدار نے کہا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی) نے مشتبہ مدارس کے بینک ٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال کا کام مکمل کرلیا ہے اور ان مدارس کے معاملات چلانے کے لیے رقم کی فراہمی کے طریقوں کے حوالے سے اب وہ ان مدارس کے منتظمین کے بیانات ریکارڈ کرے گی۔جے آئی ٹی میں محکمہ انسداد دہشت گردی، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ، قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی، پنجاب ہوم ڈپارٹمنٹ اور متعدد دیگر ایجنسیز کے عہدیدارں نے مشترکہ طور پر مشتبہ مدارس کی ایک فہرست مرتب کی تھی، ان مدارس پر الزام ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت یا فنڈنگ غیر قانونی طریقے سے حاصل کی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’تفتیش کاروں نے ان تمام (مشتبہ مدارس) کی فہرست تیار کی ہے جن کے طلبہ دہشت گردی یا دیگر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جن مدارس نے کوئی اہم بینک ٹرانسیکشن نہیں کی ہے وہ فنڈز کو خفیہ رکھنے اور رقم کی منتقلی کیلئے غیر قانونی طریقے استعمال کررہے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان مشتبہ مدارس کا تعلق ہر مکتبہ فکر دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع سے ہے۔سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ مدارس کے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات ’واضح اشارے‘ دے رہی ہیں کہ تفتیش کار اب ان مدارس کے فنڈز کی فراہمی کے طریقہ کار کو سامنے لائیں۔خیال رہے کہ پنجاب کے ان 200 مشتبہ مدارس میں نصف مدارس جنوبی پنجاب کے شہروں ڈیرہ غازی خان، مظفرآباد، میاں والی، خوشاب، لیہ، راجن پور، ملتان، لودھراں، بہاولپور، بھاولنگر، وہاڑی، بھکر اور جھنگ میں قائم ہیں جبکہ دیگر 100 مدارس صوبے کے دیگر حصوں میں موجود ہیں۔دوسری جانب حکومت نے حال ہی میں ’دہشت گردوں مالی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں‘ کو پکڑنے کے لیے قومی دہشت گرد فنانسنگ تحقیقاتی سیل مرتب کیا ہے۔مزکورہ سیل کے تحت اسٹیٹ بینک، ایفآئی اے، فیڈرل بورڈآف ریوینو اور حساس ادارے مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے لیے قومی اور بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے ہونے والی مالی ٹرانسیکشن کو ٹریک کیا جاسکے۔واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نینشل ایکشن پلان کےآغاز سے اب تک اسٹیٹ بینک نے کالعدم تنظیموں کے 126 اکاؤنٹس کو منجمند کیا ہے جن میں ارب روپے کی رقم موجود تھی، جبکہ حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے انھیں 25 کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے۔#/s#



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…