جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی خواتین کی شام روانگی کے بعدشوہروں کے ساتھ وہ ہوگیا جس کا انہوں نے کبھی سوچا تک نہ تھا

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے تین خواتین کے اپنے بچوں سمیت شام جا کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کر دی ، پولیس سمیت دیگر حساس ادارے متحرک ہو گئے اور مبینہ طور پر داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے والی دو خواتین فرحانہ حامد اور بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ آپا کے شوہر وں کو حراست میں لے کر تحقیقات کےلئے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے درالحکومت لاہور میں پولیس نے تین خواتین کے اپنے بچوں سمیت شام جا کر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کر دی ہے۔ان افراد کے اغوا ءکی ایف آئی آر چند ماہ قبل ٹاﺅن شپ، وحدت کالونی اور ہنجروال کے تھانوں میں درج کروائی گئی تھیںتاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ معلومات ملی ہیں کہ یہ لوگ کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئے ہیں تاکہ دولت اسلامیہ میں شامل ہو سکیں۔لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے پاس تو ان کے اغوا ءکی ایف آئی آر درج تھی لیکن اب ان میں سے کچھ خواتین کا رابطہ اپنے گھر والوں سے ہوا ہے جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اطلاع دی ہے کہ وہ اغوا ءنہیں ہوئیں بلکہ اپنی مرضی سے شام گئی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی مزید تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ خواتین کراچی اور گوادر کے راستے ایران سے شام گئیں تاکہ داعش کے لیے کام کر سکیں۔علاوہ ازیں میڈیا میں خبریں آنے کے بعد پولیس سمیت دیگر حساس ادارے متحرک ہو گئے ہیں اورلاہور کے علاقوں جوہر ٹاﺅن ،ہنجر وال اور وحدت کالونی میںان خواتین کے رابطوں اور دیگر سر گرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق جوہر ٹاﺅن سے اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ جانے والی خاتون بشریٰ چیمہ عرف حلیمہ آپا کے گھر پر بھی تالے لگے ہوئے ہیں ۔حساس اداروں نے ان کے شوہر خالد حبیب چیمہ کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ وحد ت روڈ سے جانے والی خاتون فرحانہ حامد کے شوہر مہر حامد کو بھی حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم میں شمولیت کے لئے شام جانے والوں کے موبائل فون ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے جس سے مزید حقائق سامنے آئیں گے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…