جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

شوکت خانم نہیں۔۔!وزیراعلی خیبرپختونخوا نے بڑے ہسپتال میں کینسرکے مفت علاج کے پروگرام کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا اعلان کردیا

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں جاری کینسر کے مفت علاج کے پروگرام کو آئندہ کیلئے بھی برقراررکھنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ مالی سال سے اس پروگرام کو مستقل اور باقاعدہ طور پر سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا انہوں نے کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رکھنے کے ضمن میں آئندہ چھ ماہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 12 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کرنے اور ایچ ایم سی میں کینسر کے مریضوں کیلئے ریسٹ ہوم قائم کرنے کی ہدایت بھی کی یہ احکامات اُنہوں نے کینسر کے فری علاج سے متعلق جمعرات کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کئے اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، خزانہ اور صحت کے سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ایچ ایم سی کے میڈیکل انکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر عابد جمیل نے اجلاس کو کینسر کے مفت علاج کے پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی اور بلڈ کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے سلسلے میں چار سالہ رپورٹ پیش کی وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس موقع پر کینسر کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کے حوالے سے اپنی صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ایچ ایم سی کو کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رکھنے کیلئے تمام مطلوبہ مالی وسائل اور ضروری سہولیات فراہم کرے گی اس سلسلے میں اُنہوں نے کمپلیکس میں کینسر کے مریضوں کیلئے ریسٹ ہوم (Hopice) قائم کرنے کا حکم دیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کینسر کے مریضوں کے فری علاج کیلئے مطلوبہ فنڈز فوری طور پر جاری کریںتاکہ زیر علاج مریضوں کے علاج میں کسی قسم کا تعطل واقع نہ ہوپروفیسر عابد جمیل نے اجلاس کو بتایا کہ کینسر کا علاج انتہائی مہنگا ہونے کے باعث عام مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے جبکہ انہوں نے انکشاف کیا کہ کینسر کے مریضوں میں بیشتر نوجوان مریض ہیں اُنہوں نے بتایا کہ 2011 سے اب تک ایچ ایم سی میں کینسر کے 2 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور ان میں سے 90 فیصد مریض زندہ ہیں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کینسر کے ایک عام مریض کے علاج کے ایک کورس پر 14 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے جو مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے اور صوبائی حکومت کے کینسر کے مفت علاج کے پروگرام سے ایسے مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ کینسر کی ادویات تیار کرنے والی کمپنی نوارٹس بھی ایک پروگرام کے تحت کینسر کے مفت علاج میں تعاون کر رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کینسر کے علاج کے سلسلے میں پشاور میں قائم کئے گئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے ساتھ اشتراک کے امکانات کا جائزہ بھی لیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…