جمعرات‬‮ ، 15 اکتوبر‬‮ 2026 

شوکت خانم نہیں۔۔!وزیراعلی خیبرپختونخوا نے بڑے ہسپتال میں کینسرکے مفت علاج کے پروگرام کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا اعلان کردیا

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں جاری کینسر کے مفت علاج کے پروگرام کو آئندہ کیلئے بھی برقراررکھنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ آئندہ مالی سال سے اس پروگرام کو مستقل اور باقاعدہ طور پر سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا انہوں نے کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رکھنے کے ضمن میں آئندہ چھ ماہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 12 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کرنے اور ایچ ایم سی میں کینسر کے مریضوں کیلئے ریسٹ ہوم قائم کرنے کی ہدایت بھی کی یہ احکامات اُنہوں نے کینسر کے فری علاج سے متعلق جمعرات کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کئے اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، خزانہ اور صحت کے سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ایچ ایم سی کے میڈیکل انکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر عابد جمیل نے اجلاس کو کینسر کے مفت علاج کے پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی اور بلڈ کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے سلسلے میں چار سالہ رپورٹ پیش کی وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس موقع پر کینسر کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی کے حوالے سے اپنی صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ ایچ ایم سی کو کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رکھنے کیلئے تمام مطلوبہ مالی وسائل اور ضروری سہولیات فراہم کرے گی اس سلسلے میں اُنہوں نے کمپلیکس میں کینسر کے مریضوں کیلئے ریسٹ ہوم (Hopice) قائم کرنے کا حکم دیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کینسر کے مریضوں کے فری علاج کیلئے مطلوبہ فنڈز فوری طور پر جاری کریںتاکہ زیر علاج مریضوں کے علاج میں کسی قسم کا تعطل واقع نہ ہوپروفیسر عابد جمیل نے اجلاس کو بتایا کہ کینسر کا علاج انتہائی مہنگا ہونے کے باعث عام مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے جبکہ انہوں نے انکشاف کیا کہ کینسر کے مریضوں میں بیشتر نوجوان مریض ہیں اُنہوں نے بتایا کہ 2011 سے اب تک ایچ ایم سی میں کینسر کے 2 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور ان میں سے 90 فیصد مریض زندہ ہیں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کینسر کے ایک عام مریض کے علاج کے ایک کورس پر 14 لاکھ سے 36 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے جو مریضوں کی پہنچ سے باہر ہے اور صوبائی حکومت کے کینسر کے مفت علاج کے پروگرام سے ایسے مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ کینسر کی ادویات تیار کرنے والی کمپنی نوارٹس بھی ایک پروگرام کے تحت کینسر کے مفت علاج میں تعاون کر رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کینسر کے علاج کے سلسلے میں پشاور میں قائم کئے گئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے ساتھ اشتراک کے امکانات کا جائزہ بھی لیں ۔



کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…