لاہور(نیوزڈیسک)حکومت کے اہم ذمہ داروں کی طرف سے ڈاکٹر عاصم اور دیگر رہنماﺅں کے حوالے سے حمایت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نئی حکمت عملی کے تحت حکومت مخالف اتحاد بنانے کیلئے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔میڈیا رپورٹ میں مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے خود مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماووں سے رابطے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے مصدقہ ذرائع کے مطابق اے ا ین پی کے اسفند یار ولی سے آصف علی زرداری کا رابطہ ہوا ہے ، آئندہ چند دنوں میں مولانا فضل الرحمن اور فاٹا کے اہم رہنماووں سے بھی رابطے کئے جائیں گے۔آصف علی زرداری دبئی سے مختلف سیاسی رہنماووں کے ساتھ رابطے کریں گے جبکہ بلاول پاکستان میں ہم خیال سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے ، اس کے علاوہ پاکستان میں موجود غیرملکی سفیروں سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سابق اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطے کر کے نیا حکومت مخالف پریشر گروپ بنانے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ آصف زرداری اس ضمن میں جلد چودھری برادران سے بھی رابطہ کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اپنے قریبی رفقا سے مشورہ کیا ہے کہ اگر حالات زیادہ خرابی کی طرف گئے تو دبئی سے لندن شفٹ ہو جائیں گے اور وہاں الطاف حسین سے بھی ان کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ ملاقات کی صورت میں اختلافات ختم کر کے اکٹھے چلنے کی کوشش کی جائے گی۔
میثاق جمہوریت سائیڈ لائن،بڑے اقدام کی تیاریاں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































