پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کے باعث سندھ میں بھی ٹیکسٹائل کی11صنعتیں بند

datetime 23  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(ویب ڈیسک) ملک میں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل اوربڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث سندھ میں بھی ٹیکسٹائل کی11 صنعتیں بند ہوگئی ہیں۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے سینٹرل چیئرمین طارق سعود نے بتایا کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح اب صوبہ سندھ میں بھی صنعتیں بدترین مسائل دوچار ہورہی ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت بالخصوص بجلی اور گیس ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے پنجاب میں 100 ٹیکسٹائل ملیں پہلے ہی بندہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے باالخصوص برآمدی صنعتوں کی بدحالی ومشکلات کی صورتحال مزیدابترہوگئی ہے جو اب قابو سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے جس کی تاز ہ مثال یہ ہے کہ گزشتہ 3 ماہ سے ملک کی برآمدات میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ نومبر2015کے برآمدات کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ کاٹن یارن اور کاٹن فیبرک کی برآمدات میں مقدار کے لحاظ سے بالترتیب45فیصد اور22فیصد کمی ہوگئی ہے جبکہ مالیت کے اعتبار سے ان کی برآمدات15فیصد کم ہوگئی ہیں، صرف کلاتھ ایکسپورٹ میں معمولی سا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاکہ اس کی ایکسپورٹس صرف4ارب ڈالر جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مجموعی برآمدات8 ارب ڈالر ہیں،انہوں نے انکشاف کیا کہ یورپی یونین میں جی ایس پی پلس درجہ ملنے کی وجہ سے کلاتھ سیکٹر کی برآمدات میں 20فیصد کے اضافے کے واضح امکانات اور مواقع موجود تھے۔تاہم صورتحال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے یہ اضافہ نہ ہوسکا۔ دریں اثنا ٹیکسٹائل ویلیوچین میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والے اسپننگ اور ویونگ سیکٹرزکوبلندترین کاروباری لاگت کے سنگین مسئلے کا سامنا رہا جس نے ان کو ملک بھر میں مسابقت کے قابل نہیں چھوڑا۔ ان کا کہناتھا کہ بالخصوص پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کوایل این جی 10.10ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی نرخوں پر خریدنے پر مجبور کیا جارہاہے جبکہ اس سے قبل یہ ریٹ8.5ڈالر کی ایم ایم بی ٹی یو رکھے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری عالمی مارکیٹ میں مسابقت سے مزید باہر ہوجائے گی اور دیگر ممالک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے گی، انہوں نے بتایا کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث پنجاب بھر میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بند ہونے کا شدید خدشہ پیداہوگیاہے،ان کا کہناتھا کہ 100ٹیکسٹائل ملز پہلے ہی بندہوچکی ہیں جبکہ بقیہ بھی بندش کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکسٹائل پیکیج کے بقیہ حصے کا فورری طور پر اعلان کیا جائے جس میں تمام ٹیکسٹائل ویلیوچین کیلیے ڈی ایل ٹی ایل،اسپننگ اور ویونگ سب سیکٹرز کے لیے ایکسپورٹ ری فنانس میں توسیع اورایکسپورٹ مارکیٹ میںریجنل سپورٹ پیکیج کے مساوی مراعات کی دستیابی کا اعلان شامل ہے۔ اپٹما کے چیئرمین نے اس توقع کا اظہارکیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے حکومت فوری طور پر مطلوبہ اقدامات کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…