ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آر ڈی اے کی عدم دلچسپی چھ ما ہ گزرنے کے باجود بھی میٹرو بس سروس منصبوبے کا مری روڈ پر کام مکمل نہ ہو سکا

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) راولپنڈی ڈیلولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے ) کی عدم دلچسپی چھ ما ہ گزرنے کے باجود بھی میٹرو بس سروس منصبوبے کا مری روڈ پر کام مکمل نہ ہو سکا ،پشاور موڑ انٹر چینج پر کام کی رفتار میں سست روی مزید 3ماہ میں بھی مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں جبکہ آرڈی اے بس سروس کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم بھی قائم کرنے میں ناکام ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کو افتتاح کو 6ماہ گزر گئے ہیں تاہم افتتاح کے بعد سے مری روڈ اور پشاور موڑ انٹر چینج پر کام سست روی کا شکار ہے موتی مہل پر پل کی تعمیر تو کر دی گئی ہے لیکن ملحقہ روڈ پر کارپٹنگ تاحال نہیں کی جا سکی اور نہ ہی پیلر ز کی منٹیننس ، اور فرنشنگ کا کام مکمل ہو سکا ہے ،پشاور روڈ انٹر چینج پر بھی کام سست روی کا شکار ہے جسکی وجہ سے انٹر چینج کی تکمیل آئندہ تین ماہ بھی مکمل ہوتی نہیں نظر آتی اس کے علاوہ آرڈی اےبس سروس کے لیے کنٹرول اینڈ کمانڈ روم کی تکمیل میں بھی ناکام ہے ، رپورٹس کے مطابق مری روڈ پر ٹھیکداروں نے کچھ کام کیا ہے جسمیں پوتھ ہولز شامل ہیں تاہم ابھی بھی بہت سے مصروف شاہرائیں ایسی ہیں جن پر ری کارپٹنگ کی ضرورت ہے ، اور کنٹریکڑ کی عدم موجودگی کی وجہ سے گزشتہ تین ہفتوں سے نظر ثانی کے حوالے سے کیا جانے والا اجلاس بھی نہیں ہوسکا ہے ،رپورٹس کے مطابق آر ڈی اے نے بس اسٹیشن پر پانی کی لیکج کے مسئلے کو بھی ابھی تک حل نہیں کیا ۔اس حوالے سے چیئرمین میٹروبس پروجیکٹ حنیف عباسی ہے کہ میٹرو بس سروس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول روم اگلے ماہ کے اخر تک صدر میں قائم کر دیا جائے سینٹر کی بلڈنگ کا کام مکمل ہو گیا ہے تاہم کمپیوٹر اور شیشوں کی تنصیب کا م ادھورا ہے جس ہر 30دن لگیں گے ،انہوں نے کہا کہ پشاور موڑ انٹرچینج منصوبے پر ابھی مزید مٹیریل درکار ہے اوراس کی تکمیل میں مزید وقت لگے گا ۔ مری روڈ پر کام کو مکمل کیا جا رہا اور آنے والے دنوں میں مری روڈ پر میٹر بس منصوبے کا تمام مکمل کر لیا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…