منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کو بچانا ہے تو کیا کرنا ہوگا، پرویز مشرّف کا انکشاف، پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 12  جنوری‬‮  2015 |

کراچی / اسلام آباد: سابق صدرپرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر چلانے کے لیے فوج کو آئینی کردار دینا ہوگا۔

میرے دور میں فوج کاآئینی کردار اداکرنے کے لیے سیکیورٹی کونسل جیساادارہ بنایا تھا تاکہ سیاستدانوں اورفوج میں اہم ایشوزپر مکمل ہم آہنگی ہواورکسی بھی ملکی اہم ایشو چاہے وہ داخلہ و خارجہ یاسلامتی امور سے متعلق ہو اس پر کھل کربحث کی جا سکے اور اس کا حل نکالاجائے، نیشنل سیکورٹی کونسل ہی واحد ادارہ تھاجو حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد سے گفتگوکرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا آج ملک میں اتفاق و اتحاد کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی ملک بچاناہے تو فوج و آئینی کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ دہشت گردوں کا قلع قمع کرسکیں اورانھیں بروقت سزائیں دی جا سکیں، پچھلے کئی سالوں سے خطرناک ترین دہشت گرد گرفتار ہوئے لیکن انھیں کوئی سزا نہیں مل سکی، دہشت گردوں کو بروقت سزائیں نہ ملنے کی وجہ سے دہشت گردی اور دہشت گرد پروان چڑھتے رہے اس لیے ملٹری کورٹس ناگزیرہیں تا کہ ان کے قیام سے دہشت گردوں کو جلد از جلدسزائیں ملیں بھی اورپاکستانی قوم کوان ناسوروں سے نجات ملے۔

دریں اثنا کراچی سے خیرپور میں عوامی اجتماع سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہاکہ حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے اور آج وطن عزیز نہ صرف دہشت گردی وبدامنی کے عذاب سے دوچار ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کا وجود اور پاسداری کاشعور بھی مفقود ہوتا جارہاہے، جس کی وجہ سے معاشی صورتحال ابتر ہوچکی ہے اور پاکستان و عوام دونوں ہی تاریخ کے بدترین دور سے گزررہے ہیں جبکہ میرے دور اقتدار میں پاکستان میں نہ صرف قانون کی اجارہ داری تھی اورملک معاشی طور پر مستحکم تھا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں تیز رفتار ترقی بھی ہورہی تھی۔

آل پاکستان مسلم لیگ تیزی سے منظم ہورہی ہے اور بہت جلدتیسری قومی سیاسی و عوامی قوت کے روپ میں ملک کی باگ ڈورسنبھال کروطن عزیز کو ایک بار پھر ترقی،خوشحالی اور استحکام کی جانب گامزن کرے گی مگر اس کیلیے اے پی ایم ایل اور پرویز مشرف کوعوام کے اسی اعتماد وتعاون کی ضرورت ہے، جو سابق دور اقتدار میں مجھے حاصل رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…