ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

رینجرز میں توسیع بارے میں قرارداد،پیپلزپارٹی کے صبرکاپیمانہ لبریز،سخت جواب دے دیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) امن امان کا مسئلہ پورے پاکستان میں ہے،لیکن نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے پاکستان رینجرز کو جتنے اختیارات سندھ میں دیئے گئے ہیں وہ ملک کے کسی صوبے میں نہیں ہے۔ باوجود اس کے مخالفین نے اس مسئلے کو متنازع بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ بات صوبائی مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے آج رات سی ایم ہاﺅس میں پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں سے رینجرز کے اختیارات کے متعلق ایک موضوع گردش میں تھا جو اب ختم ہوگیا۔ لوگوں نے بہت باتیں کی جو اب دم توڑ گئیں۔ اداروں کو لڑانے کی کوشش کی گئی۔لیکن ہم نے صبر و تحمل سے کام کیا اورنیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کو تمام اختیارات دیئے اور انکو اسمبلی سے قانونی کور مہیا کیا،نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کو چاروں اختیارات دے دئے گئے جو ان کو پہلے حاصل تھے، تاجروں کے خدشات تھے وہ ختم کردئے گئے۔رینجرز اختیارات پر کوئی قدغن نہیں لگایا گیا۔ جن باتوں کی وجہ سے غلط فہمیاں ہو رہیں تھیں ان کو حل کیا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو بتا کر کاروائی کرنا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہیں۔انسداد دہشت گردی کے تحت اختیارات کا نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائیگا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم سے تمام تفتیش مکمل ہو چکی ہے۔اب ہم انکو کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے کچھ وزراءکے مزاج میں میں جمہوریت پسند نہیں ہر صوبے کی خود مختاری اور اختیارات ہوتے ہیں صوبائی خود مختار ی کو ماننا چاہئے۔ ہم نے ہمیشہ رینجرز کی قربانیوں کو اورانکی کاروائیوں کی حمایت کی ہیں اور اسمبلی میں پیش کئے گئے بل میں بھی ان کی تعریف کی ہے۔کبھی کاروائیوں کی مخالفت نہیں کی،دوسرے صوبوں میں فرشتوں کی حکومت نہیں ہے دوسرے صوبے رینجرز کو کیوں نافذ نہیں کر رہے ہیں۔نوازشریف نے فوج کو بجلی کے بل جمع کرانے پر لگا دیا،لیکن کسی نے مخالفت نہیں کی، فوج بہت محترم ادارہ ہے ایسے مسئلے پیدا نہ کریں کہ یہ ادارہ بدنام ہو۔ اپوزیشن ہماری ہر بات کی نفی کرتے ہیں،سندھ حکومت نے بلایا ہے تو سندھ حکومت کے احکامات کے تحت ہی کاروائی کرنا ہوگی۔ اداروں کو لڑانے والے ناکام ہو گئے۔ ٹارگٹڈ آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…