ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کپتان پھربازی لے گئے اہم یونیورسٹی کانام شہدائے پشاورسے منسوب کرنے کااعلان

datetime 16  دسمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) عمران خان کی جانب سے ہری پور میں بننے والے یونیورسٹی کو شہدا کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے ،شہداءکے والدین کے تمام تحفظات دورکئے جائےں گے اور ہر ایک مطالبہ پورا کیا جا ئے گا۔سانحہ آرمی پبلک سکول نے پوری قوم کومتحد کردیا،اے پی ایس سانحے کے بعد دہشت گردی میں کمی آئی ہے ۔ بچوں کی قربانیوں نے قوم کے مستقبل کو محفوظ کیا۔پشاورآرکائیوزلائبریری میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کاکہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی، سکول سانحے نے پوری قوم کو متحد کر دیا، سکول سانحے سے پہلے جو چار ماہ دھرنے دیا وہ ملک وقوم کے بہترمستقبل کےلئے دیاتھا، دھرنوں سے کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا، عمران خان کا کہنا تھا کہ سکول سانحے کے دن بچوں کی تصویریں دیکھی توفیصلہ کیا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام اختلافات ختم کرکے متحدہوناضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود جب اپنی والدہ کو اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھاتو بہت دکھ تھاکیونکہ میری ماں کینسرکی مرض میں مبتلا تھیں۔عمران خان کاکہنا تھا کہ میں خود بھی ایک باپ ہوں،بچے بچھڑنے سے کتنی تکلیف پہنچتی ہے اسکاکامجھے اچھی طرح علم ہے ،انہوںنے اس موقع پر شہداءکے والدین کویقین دلایا کہ ہم سے جوبھی کوتاہی ہوئی ہوہم انکاآزالہ کریںگے،ہم آپکے بچے توواپس نہیں لاسکتے لیکن آپ کے زخموں پر مرہم ضرور رکھ سکتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پرویز خٹک کا کہنا تھاکہ بچوں کی قربانیوں نے قوم کے مستقبل کو محفوظ کیا، دہشت گرد دھماکوں سے قوم کو خوفزدہ نہیں کر سکتے ،پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے نہ مساجد کو چھوڑا ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں کو ،پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے سولہ دسمبر کو پاکستا ن کا 9/11قرار دیا تھا ،تقریب میں وزیر اعلی پرویز خٹک نے پشاور میں یاد گار شہدا مونومنٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا، جبکہ عمران خان کی جانب سے ہری پور میں بننے والے یونیورسٹی کو شہدا کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیاگیا، تقریب کے آغاز میں چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلی پرویز خٹک نے آرکائیوز لائبریری کو شہدا آرمی پبلک سکول کے نام سے بھی منسوب کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…