منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایئر ایشیا کے طیارے کا بلیک باکس نکال لیا گیا

datetime 12  جنوری‬‮  2015 |

جکارتہ۔۔۔۔گذشتہ دنوں ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار طیارے کا عقبی حصہ پانی سے باہر نکالا گیا تھا لیکن بلیک باکس اس میں نہیں تھا۔انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں نے ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کے بلیک باکس کو نکال لیا گیا ہے۔انڈونیشیا کی سرچ اور ریسکیو ایجنسی کے سربراہ بامبانگ سوئلسٹیو نے کہا کہ غوطہ خوروں کی ٹیم ابھی بھی دوسرے آلے کی تلاش میں ہے جس میں کوک پٹ کی آوازین ریکارڈ ہوتی ہیں۔ایئر ایشیا کا یہ جہاز جس پر 162 افراد سوار تھے، 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم میں گر گیا تھا اور یہ اب جاوا سمندر میں 30 میٹر کی گہرائی میں پڑا ہوا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بہت سی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے تاہم بہت سی لاشیں ابھی ملبے میں ہی پھنسی ہوئی ہیں۔بلیک باکس کی دستیابی سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ طیارے کو پیش آنے والے حادثے پر روشنی پڑے گی۔بامبانگ نے دارالحکومت جکارتا میں اخباری نمائندوں کو بتایا: ’قومی ٹرانسپورٹی سیفٹی کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے صبح سات بج کر 11 منٹ پر مجھے یہ اطلاع ملی کہ ہم بلیک باکس یعنی فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا کچھ حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘ایئر ایشیا کا جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جا تے ہوے خراب موسم میں لاپتا ہوگیا تھا اور اب اس کا ملبہ 30 میٹر گہرے سمندر میں پڑا ہے
انھوں نے مزید کہا: ’ہمیں ابھی بھی جس چیز کی تلاش ہے وہ کاک پٹ وائس ریکارڈر ہے۔‘واضح رہے کہ بلیک باکس عام طور پر طیارے کے عقبی حصے میں نصب ہوتا ہے۔ انھیں اس طرح بنایا جاتا ہے کہ یہ حادثے میں محفوظ رہے اور پانی میں بھی محفوظ رہ سکے اور کم از کم ایک مہینے تک یہ وہاں سے سگنل دیتا رہے۔گذشتہ دنوں ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار طیارے کا عقبی حصہ پانی سے باہر نکالا گیا تھا لیکن بلیک باکس اس میں نہیں تھا۔خیال رہے کہ سمندر سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور اب تک امدادی کارکن 48 لاشیں نکال چکیں ہیں۔جہاز کے گرنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی مگر پائلٹ نے خراب موسم کے باعث پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…