ریاض(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے بیورو برائے تفتیش و پبلک پراسیکیوشن نے حرم توسیع منصوبے کے ٹیکنیکل اور انجینئرنگ سٹاف کے پانچ اعلیٰ عہدیداران کو مکہ میں 11 ستمبر کو ہونے والے کرین حادثے کے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سعودی روزنامے الوطن کے مطابق ذرائع نے ان پانچ عہدیداران کا نام نہیں لیا مگر انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ان تمام عہدیداران پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ ان افراد میں حکومتی عہدیداران بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بیورو نے اپنی تحقیقات کا آغاز دو ماہ قبل بن لادن کمپنی کے مشتبہ افراد سے کیا تھا اور اسے انہی کے بیانات سے اس حادثے میں کمپنی کی غفلت کا حتمی ثبوت ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدہ کا بیورو اپنی تمام تحقیقات کے نتائج کو ریاض میں موجود بیورو کے مرکزی دفاتر میں بھیج دے گا تاکہ ان ملزمان کے خلاف چارج شیٹ تیار کی جاسکے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کرین حادثے کے بعد بن لادن گروپ پر پابندیاں لگا دی تھی۔ اس تفتیش کے مکمل ہونے تک کمپنی کے اعلیٰ عہدیداران کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اسی عرصے کے دوران کمپنی نئے منصوبوں میں حصہ بھی نہیں لے سکتی –
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے
-
بینک سے سونا غائب کرنے اور 5 کروڑ کے فراڈ کے الزام میں بینک کیشئر سمیت 2 افراد گرفتار



















































