ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سانحہ پشاور کے اصل حقائق ، اسفندیار ولی خان نے اہم سوال اُٹھادیئے

datetime 15  دسمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداءکی پہلی برسی کے موقع پر شہداءکے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بہنے والے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ ملک بھر کے عوام اپنے پھولوں جیسے ننھے شہداءکی قربانیوں کو تا قیامت فراموش نہیں کریں گے اسفند یار ولی خان نے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ اس قومی سانحہ کے ایک سال پورے ہونے کے بعد بھی نہ عدالتی تحقیقات ہوئیں ہیں نہ ہی اصل حقائق قوم کے سامنے لائے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہداءکے لواحقین کی شکایتوں ، گلوں اور مطالبات کا ازالہ نہیں ہو سکا۔ کبھی نہ بھولنے والے سانحہ پشاور پر پاکستان کے عوام کے بھر پور احتجاج اور مطالبے کے بعد آل پارٹی کانفرنس میں نیشنل ایکشن پلان کی متفقہ منظوری دی گئی ، توقع تھی کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف قومی منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد کرائے گی ۔اسفند یار ولی خان نے نیشنل ایکشن پلان کے 21نکا ت میں سے اکثر پر عمل درآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کے دعوے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے ۔ اسفند یار ولی خان نے مزید کہا کہ پارا چنار میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کی فیکڑیاں اب بھی پیداوار میں مصروف ہیں ۔جس کی بنیادی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا فقدان ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی APSکے شہداءکی پہلی برسی پر شہداءکے لواحقین سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور لواحقین کے مطالبات کی بھر پور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے پارٹی لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہے اور انکی جدو جہد میں ساتھ دیتی رہے گی ۔اسفند یار ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی قوم کے کل کو محفوظ بنانے کیلئے 1ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کی قر بانیاں پیش کی ہیں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہی دوسروں کے دکھ درد کو سمجھ سکتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…