پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس چوری،درآمدکنندہ کوواجبات جرمانے سمیت دینے کاحکم

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)محکمہ کسٹمز کے ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ نے ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈکے کنسائمنٹ کو مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئرکیے جانے کا جرم ثابت ہونے پر درآمدکنندہ پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔واضح رہے کہ ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈ ایک سفید رنگ کا سفوف ہے جو بہت سی صنعتوں مثلاً پلاسٹک، ظروف سازی، ربڑ وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ ذرائع نے ”قومی اخبار“ کو بتایاکہ درآمدکنندہ میسرز عبدالغفارکی جانب سے ٹائی ٹینیم ڈی اوکسائیڈکے درآمدی کنسائمنٹ کی کلیئرنس کیلئے پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کا غلط استعمال کیا گیا۔جس سے قومی خزانہ کو 1 کروڑ 36 لاکھ سے زائد کا نقصان پہنچایاگیا تاہم بعد ازکسٹمزکلیئرنس جب محکمہ کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جانب سے اس کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی گئی توانکشاف ہواکہ میسرز عبدالغفارنے گڈز ڈیکلریشن میں ایچ ایس کوڈ3206.1100 ظاہر کرکے ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں 1کروڑ 38 لاکھ 64 ہزار روپے کی چوری کی حالانکہ ایسی اشیا کے کنسائمنٹس کی ایچ ایس کوڈ 2823.0010کے تحت کسٹمز کلیئرنس کی جاتی ہے جس پر ڈیوٹی وٹیکس شرح زائد ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے کنٹراوینشن رپورٹ متعلقہ کسٹمز ایڈجیوڈیکشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی جس پر کلکٹریٹ نے حقائق وشواہد کا جائزہ لے کر درآمدکنندہ کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوٹی وٹیکسوں کی مد میں چوری کیے گئے 1کروڑ 38 لاکھ 64 ہزارروپے قومی خزانہ میں جمع کرائیں جبکہ جرم ثابت ہونے پر درآمدکنندہ پر 5لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…