منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ سے فالج کا شکار ہونے والوں کیلئے اچھی خبر،مفلوج چوہوں پر کامیاب تجربہ

datetime 10  جنوری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مفلوج چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ایک لچک دار امپلانٹ نصب کر کے انھیں چلنے پھرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ میں امپلانٹس کی تحقیق نہایت کارگر ثابت ہوئی ہے لیکن ان ٹھوس امپلانٹس کی سختی کی وجہ سے ہڈی کے آس پاس کے ٹشوز کو نقصان پہنچتا ہے اور بالآخر یہ فیل ہو جاتے ہیں۔لیکن اب ایکول پولی ٹیکنیک فیڈریل ڈی لاؤزان (ای پی ایف ایل) نے ایک ایسا لچک دار امپلانٹ تیار کیا ہے جو مہینوں کام کرتا ہے۔
ماہرین اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انتہائی اہم پیش رفت کہہ رہے ہیں۔ریڑھ کی ہڈی بالکل ایک موٹروے کی طرح ہے جس میں کاروں کی بجائے الیکٹرک سگنل اوپر نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں۔
ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ سے اکثر فالج ہو جاتا ہے کیونکہ الیکٹرک سگنل بھیڑ میں پھنس جاتے ہیں اور دماغ سے ٹانگوں تک نہیں پہنچ پاتے۔انھی تحقیق کاروں کی تحقیق کے مطابق چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کے بعد جب ان میں کیمیائی اور برقی ہیجان پیدا کیا گیا تو چوہے زمین پر بھاگنے لگے، سیڑھیاں چڑھنے لگے اور یہاں تک کہ رکاوٹیں عبور کرنے لگ گئے۔لیکن اس کے لیے وائرڈ الیکٹروڈز درکار تھے جو سیدھا ریڑھ کی ہڈی میں جاتے تھے اور یہ کوئی طویل مدتی آپشن نہیں تھا۔
امپلانٹ
جب مفلوج چوہوں کی ریڑھ کی ہڈی میں لچک دار امپلانٹ لگایا گیا تو وہ بھاگنے دوڑنے لگے
امپلانٹس اگلا قدم ہیں لیکن اگر وہ لچک دار نہ ہوں تو ان سے رگڑ پیدا ہوتی ہے، جس سے انفیکشن ہو جاتا ہے اور وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتے۔جریدے سائنس کے مطابق حالیہ ایجاد ایک ایسا امپلانٹ ہے جو جسم کے ساتھ حرکت کرتا ہے اور کیمیائی اور برقیاتی ہیجان پیدا کرتا رہتا ہے۔جب اسے مفلوج چوہوں پر ٹیسٹ کیا گیا تو وہ حرکت کرنے لگے۔اس تحقیق پر کام کرنے والے سائنس دانوں میں سے ایک پروفیسر سٹیفنی لاکور نے امپلانٹ کو عام افراد کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کل نہیں ہو گا، ہم نے مخصوص مواد تیار کیا ہے جس کے لیے منظوری کی ضرورت ہے اور اس میں وقت لگے گا۔’لیکن ہم یقیناً سمجھتے ہیں کہ یہ انسانوں کے لیے ایک مضبوط اور قوی ٹیکنالوجی ہے۔‘امپلانٹ لچکدار سیلیکون اور اس کی وائرنگ ’مائکروکریکڈ‘ گولڈ یعنی انتہائی مضبوط سونے سے تیار کی جاتی ہے۔عام وائرنگ لمبی یا چوڑی نہیں ہوتی لیکن اس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے کٹ اسے لچکدار بنا دیتے ہیں۔ان امپلانٹس نے جانوروں میں دو ماہ کام کیا ہے جن کے متعلق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی تاریخ میں سب سے لمبے امپلانٹ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…