پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

دو سیاسی خاندانوں میں 50سالہ سیاسی مخالفت دوستی میں تبدیل

datetime 9  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن)پنجاب کے دو سیاسی خاندانوں کے مابین پچاس سالہ سیاسی مخالفت دوستی میں تبدیل ہونے بارے پیشرفت جاری ہے ،سیدہ عابد حسین اور سید فخر امام نے سیاسی اتحاد کے لئے فیصل صالح حیات سے باضابطہ درخواست کردی ہے جس کے بعد دونوں خاندانوں نے پچاس سالہ سیاسی چپقلش ختم کرنے پر اتفاق کا امکان ہے ۔ مخدوم سید فیصل حیات اور سیدہ عابدہ حسین کے مابین صلح میں اہم کردار سینیٹر سیدہ صغریٰ امام اور سید عابد امام نے ادا کیا ہے۔دوخاندانوں کے درمیان سیاسی اتحاد کا امکان ہے ۔ مخدوم سید فیصل صالح حیات اور عابدہ حسین کے مابین صلح دربار حضرت شاہ جیونہ کے مزار پر ہو گی اور دونوں سیاسی شخصیات نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر سیاسی زندگی کی اننگز کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دونوں سیاسی شخصیات کے مابین مخالفت کی بنا پر حلقہ این اے 87 میں لالی خاندان بااثر ہوگیا تھا اور لالی خاندان نے مخدوم سید فیصل صالح حیات کے مابین سیاسی اختلافات ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں شروع ہوئے تاہم فیصل صالح حیات کی دلکش اور طلسماتی شخصیت کی بنا پر حلقہ کی عوام ان کی گرویدہ بن گئی تھی عابدہ حسین 1985ءمیں اسی حلقہ سے منتخب ہوئی تھی فیصل صالح حیات 1977،1988،1993،2002 اور 2008ءمیں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم عابدہ حسین کی متنازعہ شخصیت اور کردار کی بنا پر حلقے کی عوام ان سے نالاں ہوچکی تھی اسی خلا کو پر کرنے کیلئے غلام محمد لالی ایم این اے خاندان نے پر کیا اور لالی خاندان میں اتحاد پیدا کرکے سید خاندان کو شکست دی سید خاندان کی نئی نسل نے پچاس سالہ سیاسی رقابت کو محبت میں تبدیل کردیا ہے اور اب یہ خاندان دوبارہ متحد ہوگیا ہے جس سے ان کے سیاسی حریفوں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ فیصل صالح حیات وفاقی وزیر تجارت بلدیات ، داخلہ ، ہاﺅسنگ اینڈ ورکس کشمیر امور رہ چکے ہیں جبکہ عابدہ حسین چیئرمین ضلع کونسل جھنگ کے علاوہ وفاقی وزیر بہبود آبادی رہ چکی ہیں .

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…