پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

افغانستان کے دشمن ہمارے دشمن،نوازشریف کی دھواں دھار تقریر نے ماحول گرما دیا

datetime 9  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط رابطے چاہتا ہے ،پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کھڑا رہے گا، اس کے دشمن ہمارے دشمن ہیں، افغانستان پاکستان کے لیے ہمسائے سے کہیں بڑھ کر ہے، ہمسایوں سے پرامن تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے ،’ہم سمجھتے ہیں کہ امن ترقی کے لیے کلیدی اور ترقی دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے،پاکستان افغانستان کی سربراہی میں امن اور مفاہمتی عمل کا حامی ہے، افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہاں جمہوری طور پر منتخب حکومت ہی ملک کی واحد جائز اتھارٹی ہے، عالمی برداری کو چاہیے کہ وہ اس کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے امن عمل کے لیے افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، اس کے لیے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ روکنا اور سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا ’دہشت گردی ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے اور اس عفریت سے ہمیں مل کر نمٹنا ہوگا۔بدھ کو اسلام آباد میں افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے سرحد پار دراندازی کا سلسلہ روکنا اور سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے اور اس عفریت سے ہمیں مل کر نمٹنا ہوگا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مہاجرین کی سرحد پار نقل و حمل ایک سکیورٹی رسک ہے اور شرپسند اس نقل و حمل کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس موقع پر اپنے خطاب میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا خواہشمند ہے۔افغانستان میں بہت حد تک یہ غیریقینی پائی جاتی تھی کہ پاکستان وہاں بننے والی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرے گا کہ نہیں لیکن پاکستانی وزیرِاعظم کی یقین دہانیاں اثرانگیز ہیں۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے دیگر ممالک کی جنگ لڑ رہا ہے اور امن کے لیے کثیرالجہتی حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں تنازعے کی پہلی وجہ دہشت گرد گروپ ہیں جو کہ فوراً ختم ہونے والا مسئلہ نہیں ہیں۔ افغان صدر نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں وہاں سے دہشت گردوں نے افغانستان کا رخ کر لیا۔ اشرف غنی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں دہشت گردوں کے مالی معاونین کی نشاندہی ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں افغانستان کو اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ 2016 میں صورتحال تبدیل ہوگی۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پر پاکستان کے شکرگزار ہیں لیکن پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔افغان صدر کا کہنا تھا افغانستان میں بھی ساڑھے تین سے پانچ لاکھ پاکستانی پناہ گزین موجود ہیں۔’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس استنبول عمل کا حصہ ہے، جو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے 2011 میں شروع کیا گیا تھا۔اس کانفرنس کے ارکان کی تعداد 14 ہے اور بدھ کو اس سلسلے کے پانچویں وزارتی اجلاس میں بھارت سمیت دس ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت 27 ممالک اور 12 عالمی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں تشدد پسندی کا کوئی مقام نہیں، ہمارے دشمن افغانستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم خطے کے دیگر ممالک سے مضبوط رابطوں پر کام کررہے ہیں۔افغان صدر نے کہا کہ افغانستان کو سیکیورٹی، معیشت اور روزگار کے مسائل کا سامنا ہے لیکن غربت کا خاتمہ ہمارا سب سے اہم ہدف ہے جبکہ دیگر مسائل کی طرح افغان مہاجرین کی آباد کاری بھی ایک مسئلہ ہے، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کانفرنس میں شرکت کے لیے نور خان ایئربیس پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔صدر اشرف غنی کو طیارے سے باہر آنے پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی، دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور مہمان صدر کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے شاندار گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔نور خان ایئربیس پر وزیر اعظم نواز شریف نے مہمان صدر کا استقبال کیا اور اپنے وفد کا تعارف کرایا، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء خواجہ آصف اور وزیر سیفران بھی مہمان صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…