پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وزارت خزانہ ایف بی آر ملازمین کا الاؤنس بحال کرنے پر تیار

datetime 4  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت خزانہ نے ایف بی آر ملازمین کا منجمد الاو¿نس بحال کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا، ملازمین کو بقایا جات کے ساتھ الاو¿نس کی بحالی پر رواں مالی سال 1ارب 40 کروڑ روپے لاگت آئے گی جس کیلیے ایف بی آر نے وزارت خزانہ کو بجٹ گرانٹ کی مد میں اضافی فنڈز مختص کرنے کی درخواست کردی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے ایف بی آر سے الاو¿نس کی بحالی کیلیے درکار فنڈز کی تفصیلات طلب کی تھی جو وزارت خزانہ کو موصول ہو گئی ،رواں ماہ فیصلے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلی سہ ماہی میں 40 ارب کے ریونیو شارٹ فال کی وجوہ میں ایک وجہ ایف بی آر ملازمین کا بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد الاو¿نس بجٹ میں اعلان کردہ تنخواہ میں اضافے کے مطابق نہ کرنا بھی تھا جس سے ملازمین میں بددلی پائی جاتی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر حکام کا موقف ہے کہ الاو¿نس بحال کرنے سے ریونیو کلیکشن میں بہتری آئے گی۔  وزارت خزانہ سے دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کو ملنے والی سمری میں بتایا گیاکہ ایف بی آرملازمین کا منجمد شدہ الاو¿نس بحال کرنے کیلیے 1 ارب 40کروڑ روپے کے اضافی فنڈز درکار ہوں گے جس میں 12کروڑ 81 لاکھ روپے ہیڈ کوارٹرز کے ملازمین، 48 کروڑ 98 لاکھ روپے پاکستان کسٹمز سروس کے ملازمین اور 78کروڑ21 لاکھ روپے ان لینڈ ریونیو سروس کے ملازمین کے الاو¿نس کی بحالی پر خرچ ہونگے۔
سمری کے مطابق سال 2012 میں بھی یہ الاو¿نس منجمد کیا گیااور اس وقت فنانس ڈویڑن کی سفارش پر وزیراعظم نے اسے بحال کرنے کی منظوری دی تھی، یہ الاو¿نس صرف ان ملازمین کو دیا جاتا ہے جو کارکردگی کا معیار جانچنے کیلیے وضع کردہ اہلیت و گائیڈ لائن کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔
سمری کے مطابق مذکورہ حقائق کی بنیاد پر ایف بی آر ملازمین کا الاو¿نس بحال کرنے کے حوالے سے 10جولائی کو بھی وزیر خزانہ کو نوٹ بھجوایا گیا تھا، اب وزارت خزانہ کے الاو¿نس بحال کرنے کیلیے درکار فنڈز کی تفصیلات طلب کرنے پر یہ سمری بھجوائی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ الاو¿نس کی بحالی پر یکم جولائی 2015 سے جون 2016تک 1ارب 40کروڑ روپے لاگت ا?ئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…