منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

امریکہ و یورپ کے انتباہ نظر انداز،روس نے ایران کو بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکر لینے کا سامان فراہم کردیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2015 |

ماسکو(نیوزڈیسک)روس نے اپنے اتحادی ملک ایران کو ایس 300 فضائی دفاعی نظام کی ترسیل شروع کردی ،روس کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق صدر ولادی میرپیوٹین کے مشیرولادی میر کوڑین نے کہاکہ ایران کو ایس 300 فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔روس اور ایران کے درمیان گذشتہ ماہ اس میزائل دفاعی نظام کی ترسیل کے لیے حتمی معاہدہ طے پایا تھا اور اس پر بعض خلیجی ریاستوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن تب روس کے سرکاری دفاعی پیداواری کے ادارے روٹیک کے چیف ایگزیکٹو سرگئی چیمزوف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ خلیجی ممالک کو اس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ دفاعی سامان ہے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کی فروخت کی پیش کش کرنے کو تیار ہیں۔واضح رہے کہ روس نے 2007ءمیں ایران کے ساتھ اسّی کروڑ ڈالرز مالیت کا دفاعی معاہدہ کیا تھا۔اس کے تحت اس نے ایران کو ایس 300 میزائل سسٹم مہیا کرنا تھا لیکن اس نے بعد میں امریکا اوراسرائیل کے سخت دباو¿ پر ایران کو اس میزائل نظام کی فروخت معطل کردی تھی لیکن اسی سال کے اوائل میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران کو یہ جدید میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے کے لیے پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔روس کی جانب سے اس پابندی کے خاتمے کے بعد وائٹ ہاو¿س نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ اس فیصلے سے ایران پر عاید پابندیوں کے حوالے سے تحفظات پیدا ہوسکتے ہیں۔قبل ازیں روس کی جانب سے ایس 300 میزائل دفاعی نظام کی ترسیل روکے جانے کے بعد ایران نے جنیوا میں قائم ایک عدالت میں کریملن حکومت کے خلاف چار ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا۔اس دعوے پر روس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پرعاید کردہ پابندیوں کے بعد اس کو ایس 300 میزائل نظام کی فروخت منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی میں ویانا میں جوہری تنازعے پر کئی روز کے مذاکرات کے بعد تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کی صلاحیت کو محدود کردے گا اور وہ اس سے بم تیار نہیں کرسکے گا جبکہ اس پر عاید بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جارہی ہیں اور بعض کردی گئی ہیں۔روس اور ایران شام میں داعش اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے خلاف جنگ میں بھی اتحادی ہیں اور وہ صدر بشارالاسد کی حمایت سفارتی ،فوجی ،مالی اور سیاسی امداد میں پیش پیش ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…