منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ترکی کی ملکی ضروریات کی 50فیصدروسی گیس کی بندش،ترک صدر کے جواب نے لاجواب کردیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2015 |
Turkey's Prime Minister Tayyip Erdogan waves after addressing the media at the AK Party headquarters in Ankara July 30, 2008. Erdogan said on Wednesday a Constitutional Court ruling not to ban the governing AK Party removed uncertainty the European Union-applicant country was facing. In his first remarks since the court ruling, Erdogan said Turkey had suffered a serious loss of time and energy due to the case but that his party would continue to uphold the country's secular values. REUTERS/Stringer (TURKEY)

انقرہ (نیوزڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی عاید کردہ ”جذباتی” پابندیوں کا جواب نہیں دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ نہیں چاہتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک صدر ایردوآن نے ترک صحافیوں کے ساتھ ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ روس ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے،ہمیں انھیں خوراک سمیت اپنی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ روس کے اقدامات ریاستی وقار کے منافی ہیں۔ترکی اس ضمن میں اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ہم ان کی طرح کی زبان استعمال نہیں کررہے ہیں۔ہم ان سے (روسی قیادت سے) یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زبان کو تبدیل کریں۔ترک صدر نے کہا کہ ماسکو نے طیارے کی تباہی کے واقعے کے ردعمل میں جذباتی انداز میں اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ ترکی میں مقیم روسی شہریوں کے خلاف کسی اقدام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جوابی ردعمل قانون کی حدود ہی میں رہ کر ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ روس ترکی کو اس کی گیس کی ضروریات کا نصف فی صد سے زیادہ مہیا کرتا ہے لیکن صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ انھیں روس کی جانب سے گیس کی برآمدات کی بندش کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ساری زندگی قدرتی گیس کے سہارے تو زندہ نہیں رہے ہیں۔یہ قوم مشکلات جھیلنے کی عادی ہے اور ترکی کے پاس روس کے علاوہ بھی گیس کے برآمد کنندگان ہیں۔ترک صدر نے انٹرویو میں کہا کہ ”روسی صدر ولادی میر پوتین ماضی میں میرے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔وہ مجھے حوصلہ مند اور دیانت دار سربراہ ریاست قرار دے چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…