ماسکو(نیوزڈیسک)روس کے نائب وزیردفاع اناطولی انتونوف نے کہاہے کہ شام اور عراق سے چ±رائے گئے تیل کا مرکزی صارف ترکی ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت یعنی صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کا خاندان اس مجرمانہ کاروبار میں ملوّث ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نائب روسی وزیردفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس الزام کے حق میں ثبوت موجود ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں بعض سیٹلائٹ تصویر کا حوالہ دیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کے ٹینکر ترکی کی جانب جا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ تین ایسے راستوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے ذریعے تیل ترکی پہنچایا جاتا رہا ہے،انہوں نے کہاکہ ان کے وزیردفاع اپنے ترک ہم منصب مولود کاوس اوغلو سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور وہ بلغراد میں تنظیم برائے سلامتی اور تعاون یورپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر مل بیٹھیں گے اور ان سے سنیں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔
روس کاترکی پر کاری وار،ثبوت منظر عام پر لے آیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں



















































