پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بیرونی سرمائے کے بڑے پیمانے پر انخلا سے اسٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی

datetime 1  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) غیرملکی سرمائے کا انخلا، مسابقتی کمیشن کی جانب سے مقامی اسٹاک ایکس چینجزکے انضمام کو منظورکرنے اور ایک گرفتار سیاستدان کا معاملہ سنگین ہونے کی وجہ سے سیاسی افق پر عدم استحکام کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو34.58 پوائنٹس کی تیزی کے بعد مندی کا بڑا ریلا رونما ہوا جس سے انڈیکس کی32900، 32800، 32700، 32600 ،32500 ،32400 اور32300 پوائنٹس کی7 حدیں بیک وقت گر گئیں، مندی کے سبب83.76 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے1 کھرب23 ارب45 کروڑ91 لاکھ89 ہزار648 روپے ڈوب گئے۔ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ متعلقہ ریگولیٹرکی جانب سے سخت ریگولیشنزاورممکنہ پوچھ گچھ کے باعث کیپٹل مارکیٹ میں بڑی نوعیت کی سرمایہ کاری رک گئی ہے جبکہ کراچی میں 5 دسمبرکو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی فضا سے متعلق سرمایہ کاروں میں اضطراب اورغیرملکیوں کی جانب سے مستقل سرمائے کے انخلا جیسے عوامل مارکیٹ کو مزید مندی کی جانب دھکیلتے جارہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کے ماحول میں سرمایہ کاری کے مقامی شعبوں کے پاس انویسٹمنٹ پاور ختم ہوگئی ہے اور وہ اس غیریقینی فضا کے سبب مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے حصص کی ا?ف لوڈنگ کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے مجموعی طور پر50کروڑ ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا ہوچکا ہے جبکہ اسٹاک بروکرز کی جانب سے مجوزہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر بھی تحفظات ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ٹریڈنگ میں دلچسپی گھٹا دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کا افتتاح 7 دسمبر کووزیراعظم نوازشریف کریں گے۔ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیزاور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ26 لاکھ86 ہزار527 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے باوجود مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے نہ بچ سکی کیونکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 81 لاکھ69 ہزار921 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے20 لاکھ63 ہزار796 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے53 ہزار271 ڈالر اور بروکرز کی جانب سے23 لاکھ99 ہزار539 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔جس سے حصص کی تجارت تنزلی کی زد میں رہی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس705.07 پوائنٹس کی کمی سے32255.20 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس448.39 پوائنٹس کی کمی سے 18957.19، کے ایم ا?ئی30 انڈیکس1041.30 پوائنٹس کی کمی سے53483.00 اور ا?ل شیئر اسلامک انڈیکس 268.81 پوائنٹس کی کمی سے15009.80 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت16.70 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ27 لاکھ57 ہزار670 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار345 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں46 کے بھاو¿ میں اضافہ، 289 کے داموں میں کمی اور10 کی قیمتوں میں استحکام رہا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…