منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

داعش پنجاب میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: محکمہ داخلہ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)ایک طرف حکومت ملک میں دہشت گرد تنظیم داعش کی عملی طور پر موجودگی نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف اسے داعش کے حملوں کا خطرہ بھی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ داعش صوبے میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔حکومتی الرٹ میں خاص طور پر ضلع گجرات میں جلال پور جٹان روڈ پر گشت کرنے والی فوج کی گاڑیوں اور جی ٹی روڈ پر پولیس موبائلوں پر حملے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔نجی اداروں پر حملے کے خدشے کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 دہشت گردوں کا گروپ لاہور پہنچ چکا ہے جو نجی اداروں بالخصوص ان کے سیکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ داعش کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس و فوج کی گاڑیاں اور نجی ادارے داعش سے منسلک دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔داعش کے حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ وفاقی حکومت کے ان دعوؤں سے متصادم ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔تاہم وزیر قانون پنجاب رانا ثناہ اللہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس خطرے کو معمول کی بات قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب میں داعش کا کوئی وجود نہیں، کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند شدت پسند مسائل پیدا کر رہے ہیں جن کے خاتمے کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) محمد فخر سلطان راجا حملوں کے خطرے کے پیش نظر نجی اداروں کے تعاون سے احتیاطی اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…