اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

داعش پنجاب میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: محکمہ داخلہ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)ایک طرف حکومت ملک میں دہشت گرد تنظیم داعش کی عملی طور پر موجودگی نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف اسے داعش کے حملوں کا خطرہ بھی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ داعش صوبے میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔حکومتی الرٹ میں خاص طور پر ضلع گجرات میں جلال پور جٹان روڈ پر گشت کرنے والی فوج کی گاڑیوں اور جی ٹی روڈ پر پولیس موبائلوں پر حملے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔نجی اداروں پر حملے کے خدشے کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 دہشت گردوں کا گروپ لاہور پہنچ چکا ہے جو نجی اداروں بالخصوص ان کے سیکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ داعش کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس و فوج کی گاڑیاں اور نجی ادارے داعش سے منسلک دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔داعش کے حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ وفاقی حکومت کے ان دعوؤں سے متصادم ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔تاہم وزیر قانون پنجاب رانا ثناہ اللہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس خطرے کو معمول کی بات قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب میں داعش کا کوئی وجود نہیں، کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند شدت پسند مسائل پیدا کر رہے ہیں جن کے خاتمے کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) محمد فخر سلطان راجا حملوں کے خطرے کے پیش نظر نجی اداروں کے تعاون سے احتیاطی اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…