اسلام آباد (نیوز ڈیسک)برطانوی ٹی وی چینل 4 نے خواتین شرکا کی جانب سے جنسی زیادتی اور نامناسب رویے کی شکایات سامنے آنے کے بعد اپنے معروف ریئلٹی شو ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ پروگرام میں شریک مرد امیدواروں پر عائد جنسی زیادتی کے الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے اور ان کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔اس معاملے نے رواں سال مئی میں اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘ میں تین خواتین نے اپنے مرد ساتھی شرکا کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان میں سے دو خواتین نے جنسی زیادتی جبکہ تیسری نے اپنی رضامندی کے بغیر جنسی عمل کیے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم متعلقہ مرد شرکا نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔خواتین کا مؤقف تھا کہ شو کے دوران جن مرد شرکا کو ان کا شوہر بنایا گیا، انہوں نے پروگرام کے طے شدہ طریقہ کار اور حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ان کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی۔شکایات سامنے آنے کے بعد چینل 4 نے معاملے کی جانچ کے لیے دو الگ الگ تحقیقات کروائیں۔ قانونی فرم کلائیڈ اینڈ کمپنی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں 31 ہزار سے زیادہ دستاویزات اور 20 گھنٹے پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پروگرام کے حفاظتی انتظامات نشریاتی ضوابط کے مطابق ترتیب دیے گئے تھے، تاہم بعض مواقع پر ان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ دوسری تحقیق سابق بی بی سی عہدیدار لورین ہیگسی نے کی، جنہوں نے شرکا کے تحفظ کے لیے موجودہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی سفارشات پیش کیں۔
چینل 4 کی سربراہ پریا ڈوگرا کے مطابق تحقیقات میں سامنے آنے والی تمام سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی صورت میں پروگرام کا بنیادی فارمیٹ ہی تبدیل کرنا پڑتا۔اسی صورتحال کے پیش نظر چینل نے شو کا چھٹا سیزن نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس سے منسلک ایک اضافی پروگرام کی تیاری بھی روک دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ اب دوبارہ نشر نہیں ہوگا اور اس کے لیے مختص فنڈز نئے ٹی وی پروگراموں کی تیاری پر خرچ کیے جائیں گے۔چینل 4 نے اپنے بیان میں متاثرہ خواتین سے ایک مرتبہ پھر معذرت کرتے ہوئے ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ دونوں تحقیقات میں خواتین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے درست یا غلط ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔ یہ معاملہ تاحال متعلقہ حکام کے زیر غور ہے۔



















































