خالق نگر (این این آئی)حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں نکاح خوانوں اور یونین کونسل سیکرٹریز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں پر 200 روپے سے زائد رقم بطور مبارک یا فیس لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
اس حوالے سے پنجاب کے مختلف شہروں میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے چھاپے مار کر قانونی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں نکاح نامہ کی قانونی رجسٹریشن فیس حکومت کی طرف سے صرف 200 روپے مقرر ہے اور متعلقہ سیکرٹری یونین کونسل یہ فیس وصول کر کے شہری کو سرکاری رسید دینے کا پابند ہوگا۔ رسید نہ دینے کی صورت میں متعلقہ سیکرٹری یو سی کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ 200 روپے سے زائد رقم کی وصولی کو بددیانتی اور رشوت کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔حکومتی احکامات کے مطابق جن مساجد میں ائمہ کرام کو پنجاب حکومت کی جانب سے 25 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے، وہاں وہی امام مسجد نکاح خواں اور رجسٹرار کی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور صرف سرکاری فیس وصول کر کے رسید جاری کریں گے۔
مزید برآں، دولہا خود بھی یونین کونسل سیکرٹری کے پاس جا کر 200 روپے فیس ادا کر کے نکاح نامے کی نقل اور رسید حاصل کر سکتا ہے۔ حکومت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر مقررہ فیس سے زائد رقم وصولی کی شکایت پر اینٹی کرپشن کے ذریعے فوری چھاپہ مارا جائے گا اور ملوث سیکرٹری، نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو سنگین مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔



















































