اسلام آباد(این این آئی)وزیر دفاع خواجہ آصف نے سربراہ جے یوآئی (ف)مولانا فضل ارحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا تھا
اس لیے وہاں میری موجودگی ضروری نہیں تھی،فیلڈ مارشل صلح کے پیامبر بن کر تہران پہنچے، ایک جنگ رکوائی ہے، یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا، فیلڈ مارشل کا کردار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے، آنے والے دنوں میں مشرق وسطی میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے، مولانا نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا ؟ اور وہاں جانے کی آفر کیوں کی؟کیا آپ وہ وزیر خارجہ تھے؟ اس دورہ کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا،، مولانا فضل الرحمان کی پوری سیاسی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے،کشمیر کاز کیلئے منصب سے مراعات حاصل کرنے اور مفت کی سواری سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کی کیاخدمات ہیں؟ ۔جمعرات کوقومی اسمبلی میں جے یوآئی (ف )کے قائد مولانافضل الرحمان کے نکات کاجواب دیتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ تہران میں ہونے والی بات چیت کسی دفاعی معاہدے کے حوالے سے نہیں تھی اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع یا اس سے متعلق کسی دوسرے موضوع پر کوئی باقاعدہ بات چیت ہو رہی تھی،
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ سوا سال کے دوران ہونے والی جنگ اور اس میں پاکستان کی کامیابی کے بعد ملک کے لیے جو کردار ادا کیا اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی جو کوشش کی اس کے تناظر میں یہ پیش رفت اہمیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان جبکہ قطر، ترکیہ، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دو معاہدے ہوئے ہیں ،وزیر دفاع کی حیثیت سے ان دونوں دفاعی معاہدوں کے حوالے سے میں موجود تھا،تہران میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ وزارتِ دفاع کے حوالے سے کوئی باقاعدہ سرگرمی نہیں تھی، وہاں ایک ذریعے کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا اور اس طرح بات چیت کے لیے زمین ہموار ہوئی، اس کے بعد سعودی عرب اور ترکیہ کے نمائندے بھی وہاں پہنچے، ترکیہ کی جانب سے انٹیلی جنس چیف موجود تھے، وزیر دفاع وہاں نہیں آئے تھے اس لئے میری موجودگی ضروری نہیں تھی۔خواجہ محمدآصف نے کہاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے جو کردار ادا کیا اس کے نتیجے میں ایک ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں مدد ملی بالخصوص یمن کے مسئلے پر صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی تھی تاہم اسے کسی حد تک سنبھالا گیا اور بات چیت کا راستہ نکالا گیا، امید ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں سعودی عرب اور یمن سے متعلق صورتِ حال میں مزید پیش رفت سامنے آئیگی لہذا اس حوالے سے کی جانے والی نکتہ چینی بلاجواز ہے ۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کا ہماری سیاسی تاریخ میں ایک مقام ہے، ان کی دوسری نسل کا بھی اپنا مقام ہے جبکہ ان کے والدِ محترم عظیم شخصیت تھے جس آئین کے تحت ہماری موجودہ اسمبلی وجود میں آئی اس کی تیاری اور منظوری میں کردار ادا کرنے والوں میں ان کے والدِ محترم بھی شامل تھے ،سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اپنے باہمی اختلافات ایک طرف رکھ کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور اس ضمن میں فیلڈ مارشل کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے، اختلافات اپنی جگہ لیکن ملک کے مفاد میں ہونے والی کوششوں کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔وزیردفاع نے کہاکہ مولانا جب جنرل مشرف کے اتحادی تھے توانہوں نے اس وقت بھی ان پرتنقید کی تھی ،اس وقت ایک مخصوص سیاسی بندوبست کے تحت وہ قائدِ حزبِ اختلاف بنے جبکہ پیپلز پارٹی اور ہم اس منصب سے محروم رہے، اس پورے عرصے میں مختلف جماعتوں کے ساتھ ان کے اختلافات بھی رہے،
تعاون بھی رہا اور وہ حکومتی بندوبست کا حصہ بھی رہے، آج سے تقریباً دو سال قبل بھی ان کے پاس متعدد وزارتیں اور محکمے تھے جن میں مواصلات کا قلم دان بھی شامل تھا، پی ڈی ایم کی حکومت میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ان کے اختلافات بھی سامنے آئے لیکن اس کے باوجود ہم سب نے مل کر حکومت بنائی، اس حکومت میں مولانا کا بھی اہم کردار تھا اس لئے کم از کم سیاسی وقار اور شائستگی کا مظاہرہ ضرور ہونا چاہیے۔ خواجہ محمد آصف نے کہاکہ جب وہ کسی وقت فوج یا ہائبرڈ نظام کے حوالے سے بات کرتے ہیں توانہیں سابقہ تقاریر یاد دلائی جاتی ہیں، اس وقت بھی میرا بنیادی موقف آئینی حکمرانی کا تھا جس پس منظر اور تناظر میں میں نے وہ تقریر کی تھی اس میں میرا موقف میرے نزدیک درست تھا۔انہوں نے کہاکہ انتخابات پر اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور ان پر اختلافِ رائے ہو سکتا ہے لیکن اگر کسی جماعت کو اقتدار میں حصہ نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ماضی کو نظرانداز کرکے ان پر تنقید شروع کر دے ،یہاں موجود تقریبا تمام سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں اقتدار میں شریک رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہمارے بہت اختلافات رہے ہیں لیکن جب ہم ماضی کو ذہن سے محو کرکے اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو مجھے کم از کم اپنی سابقہ سیاست اور اپنے کردار کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔وزیردفاع نے کہاکہ وہ ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے ماضی کے بعض سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کی اور آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا، مجھ میں یہ اخلاقی جرات موجود ہے کہ میں اپنے ماضی کو سامنے رکھ کر بات کروں لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک آئینی حکومت کے خاتمے کے بعد ایل ایف او کے تحت ایک حکومت قائم ہوئی جس میں مولانافضل الرحمان خود بھی شریکِ اقتدار رہے اور اس کے بعد اسی نظام میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہے اور پھر دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے،
سوال یہ ہے کہ کشمیر کے ساتھ آپ کا تعلق کیا ہے؟ اس ایوان میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ گہرا جذباتی اور نظریاتی تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے اہم مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے لیے کسی بھی کمیٹی کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہیے جس کی ساکھ ،جس کے کوائف اور کردار پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو محض سیاسی مصلحت کے تحت اس منصب پر بٹھا دیا جائے۔وزیردفاع نے کہاکہ مجھے طعنے دیتے ہیں کہ کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو، میں کہتا ہوں کہ آپ بھی ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، گزشتہ چالیس برس کی سیاست میں آپ نے کن کن مراعات سے فائدہ اٹھایا؟ آپ کن اصولوں کی ترویج کرتے رہے اور کن اصولوں کی خلاف ورزی خود کرتے رہے؟ آپ دوسروں کو جن اصولوں کا درس دیتے ہیں کیا آپ نے خود بھی کبھی ان پر عمل کیا؟کوئی ایوان کو بتائے کہ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے دوران انہوں نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی فائدہ پہنچا ہو؟ کشمیر کاز کے لیے ان کی خدمات کیا ہیں؟ سوائے اس کے کہ اس منصب سے مراعات حاصل کیں اور مفت کی سواری سے لطف اندوز ہوتے رہے اس کے باوجود وہ ایسی پوزیشن اختیار کرتے ہیں جو ان کے اپنے ماضی کے موقف سے متصادم ہے، ان کی پوری سیاسی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے لیکن گفتگو ایسے کرتے ہیں جیسے وہ آبِ زمزم سے دھلے ہوئے ہوں، حقیقت یہ ہے کہ اس ایوان میں کوئی بھی شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔ وزیردفاع نے کہاکہ مولانافضل الرحمان نے افغانستان کے حوالے سے بات کی کہ وہ وہاں جانے کے لیے تیار تھے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت وزیر خارجہ تھے کہ وہاں جاتے؟ انہوں نے کس تناظر میں اور کس کے حوالے سے یہ پیشکش کی تھی؟ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ وزیر دفاع یا وزیر خارجہ کو ایران یا افغانستان جانا چاہیے لیکن وہ خود کس حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر رہے تھے؟ بظاہر اس کے پیچھے اپنی سیاست میں اضافی اہمیت پیدا کرنے، اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور حکومت سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بھائی سیاسی طور پر یتیم ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے بھی مولانا کے سائبان تلے پناہ لے لی ہے اور گویا خود کو ان کا سیاسی متبنی بنا لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا کی جماعت ایک سیاسی جماعت ہے اور ان کی سیاست کا بڑا انحصار مذہبی بیانیے اور مذہبی تاثر پر ہے جن کے پاس مذہب کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی گنجائش اور صلاحیت ہے، وہ اسے استعمال کریں یہ ان کا حق ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے حالات، مفادات اور سیاسی ضرورتوں کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں ،جس طرح انہوں نے سیاست اور مذہب کو استعمال کیا اس کی مثال کسی دوسری جماعت میں نہیں ملتی، میں کیا بیان کروں؟ صرف پی ڈی ایم کے دور کی بات کروں، اس سے پہلے کی بات کروں، مشرف کے زمانے کا ذکر کروں یا کشمیر کمیٹی کی کارکردگی بیان کروں؟ آخر میں کس کس بات کا ذکر کروں؟۔وزیردفاع نے کہاکہ پاکستان کے دفاع کے کم از کم ایک نکتے پر پورے ایوان کو متحد ہونا چاہیے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، ایک دوسرے پر تنقید بھی ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود قومی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔
وزیردفاع نے کہاکہ پاکستان نے اپنے ازلی دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی لیکن اس ایوان میں موجود ہمارے سیاسی مخالفین میں سے کسی نے بھی اس کامیابی کو کھلے دل سے سراہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اگر تعریف کی بھی تو اس میں بخل سے کام لیا گیا ،یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم متحد ہوکر اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ اس کے بعد سفارتی محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، دنیا نے ان کامیابیوں کو تسلیم کیا لیکن اگر اس ایوان میں کسی جانب سے اس کا اعتراف نہیں کیا گیا تو وہ ہمارے سیاسی مخالفین کی جانب سے تھا، محض اس لیے کہ ہم حکومت میں ہیں ،وہ حکومت کے ہر اچھے کام کی تعریف کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔ وزیردفاع نے کہاکہ قومی مفاد کے بعض معاملات میں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔وزیردفاع نے کہاکہ کل ان کی ذات پر تنقید کرتے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن وہ ہمارے سفارتی اقدامات اور کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے، انہیں میری ذات پر جو کہنا ہے کہیں مجھے اس پر کوئی مسئلہ نہیں، سیاست دانوں کو اتنا حوصلہ مند اور وسیع القلب ہونا چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل نہ ہوں، میں ذاتی تنقید کو اس قدر اہمیت دینے کا قائل نہیں ہوں، انہیں یہی مشورہ دوں گا کہ وہ محنت کریں، وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں اور حسد سے گریز کریں۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا میں آئین کی متعلقہ شقوں کے تحت ہنگامی اقدامات کیے گئے میں حلفا کہتا ہوں کہ اگر انہیں حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو شاید کل والی تقریر کی نوبت ہی نہ آتی، اگر انہیں اقتدار میں شریک کرلیا جاتا تو یہ تلخی پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ہمیں اقتدار میں آنے کے لیے سمجھوتے نہیں کرنے چاہئیں ،بہتر یہ تھا کہ ہم اختلافات کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھتے کیونکہ بعض اوقات اپوزیشن میں رہنے میں زیادہ عزت ہوتی ہے بجائے اس کے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت میں آیا جائے اور پھر مسلسل ان کے دبا ئوکا سامنا کرنا پڑے، میرے نزدیک کل کی تقریر بھی اسی سیاسی دبائو کا حصہ تھی۔ وزیردفاع نے کہا کہ ان کے مولانا فضل الرحمان اوران کے بزرگوں کے ساتھ ہمیشہ سے وسیع القلبی اور احترام کا تعلق رہا ہے لیکن جب وہ اس حد تک بات لے جائیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ میرا جواب دینا بھی ضروری تھا خصوصا ان باتوں کے جواب میں جن میں غلط بیانی کی گئی یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں قوم کوپیغام دینا چاہیے کہ گروہی اورذاتی سیاست نہیں کریں گے بلکہ آئین،جمہوریت اورملکی سالمیت کی سیاست کریں گے اوربجائے اس کے دست گریبان ہوں ہمیں آگے بڑھنے کے راستے پیداکرنے چاہئیں۔



















































