اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی تعلیمی اسناد ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق کرانے اور ان کی جسمانی جانچ پڑتال کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ادارے میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام نافذ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں کے ایم سی کے سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن طحہ احمد، میونسپل کمشنر ابرار جعفر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ کے ایم سی کے تمام 10 ہزار سے زائد ملازمین کی ڈگریوں کی ایچ ای سی سے تصدیق کے ساتھ ان کی فزیکل ویری فکیشن بھی مکمل کی جائے اور بائیومیٹرک حاضری کا نظام متعارف کرایا جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کو بھی اس عمل پر عمل درآمد یقینی بنانے اور متعلقہ دستاویزات و شواہد کے ساتھ رپورٹ کمیٹی میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے ملازمین کی جسمانی تصدیق میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب تک یہ عمل مکمل کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق بائیومیٹرک نظام کے ذریعے یہ پتا لگایا جاسکے گا کہ کتنے ملازمین ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔میونسپل کمشنر ابرار جعفر نے کمیٹی کو بتایا کہ کے ایم سی میں تقریباً 10 ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور تمام محکموں کے سربراہان کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ تاہم، بائیومیٹرک حاضری کے نفاذ اور ملازمین کی تصدیق میں تاخیر پر کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران کراچی سمیت سندھ کے مختلف اسپتالوں میں طبی آلات کی خرابی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
آڈٹ اعتراضات میں بتایا گیا کہ سوبھراج اسپتال سمیت متعدد طبی مراکز میں ایکسرے، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ کی مشینیں غیر فعال رہیں۔حکام نے بتایا کہ سوبھراج اسپتال کی ایکسرے مشین 2022 سے 2025 تک خراب رہی، تاہم اب اس کی مرمت کردی گئی ہے۔ اس پر نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ کیا کے ایم سی کے پاس اتنے طویل عرصے تک مشین کی مرمت کے لیے فنڈز موجود نہیں تھے؟کمیٹی کے رکن طحہ احمد نے کہا کہ اسپتالوں میں کئی برس تک ایکسرے مشینوں کا خراب رہنا مریضوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث مریض نجی مراکز سے مہنگے ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے فنڈز مختص کرتی ہے، اس کے باوجود اسپتالوں میں مشینوں کا طویل عرصے تک خراب رہنا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کو ہدایت کی کہ صوبے بھر کے اسپتالوں کی صورت حال کی تحقیقات کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔میونسپل کمشنر ابرار جعفر نے مزید بتایا کہ کے ایم سی کے زیر انتظام 13 اسپتال کام کر رہے ہیں اور میئر کے ہمراہ مختلف اسپتالوں کے دورے کرکے وہاں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



















































