کراچی(این این آئی) نیشنل سائبر کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں بیرونی کمپنیوں، تھرڈ پارٹی وینڈرز اور سپلائرز کی خدمات کو اداروں کے سائبر سیکیورٹی نظام کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے
خبردار کیا گیا ہے کہ کلاؤڈ سروسز اور بیرونی سافٹ ویئر کے استعمال سے ڈیجیٹل نظام میں سیکیورٹی کمزوریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ایڈوائزری کے مطابق تھرڈ پارٹی وینڈرز اور سپلائرز کے ذریعے سائبر حملوں کے خطرات موجود ہیں، اس لیے اداروں کو بیرونی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو غیر ضروری سسٹمز اور حساس معلومات تک رسائی دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ بیرونی کمپنیوں کی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی اور ان کی رسائی کو محدود رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔نیشنل سائبر نے اداروں پر زور دیا ہے کہ کسی بھی بیرونی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے اس کے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس اقدام سے ممکنہ کمزوریوں کی بروقت نشاندہی اور سائبر حملوں کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ایڈوائزری میں تھرڈ پارٹی ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور کلاؤڈ سروسز کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیرونی سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل خدمات استعمال کرتے وقت خصوصی احتیاط برتیں تاکہ ممکنہ سیکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر نظام کو نشانہ نہ بنایا جاسکے۔
حساس معلومات کے تحفظ کے لیے بیرونی کمپنیوں کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ محدود رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق سروس فراہم کرنے والوں کو صرف اتنی معلومات اور سسٹمز تک رسائی دی جانی چاہیے جتنی ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری ہو، تاکہ ڈیٹا کے غلط استعمال اور غیر مجاز رسائی کے خدشات کم کیے جاسکیں۔ایڈوائزری میں سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی، واقعات کی فوری رپورٹنگ اور مؤثر ردعمل کے نظام کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تھرڈ پارٹی وینڈرز سے وابستہ خطرات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور اپنے ڈیجیٹل نظام، حساس ڈیٹا اور اہم معلومات کے تحفظ کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات اپنائیں۔



















































