کراچی (این این آئی) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں دل اور دماغ کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں کم ہوسکتا ہے،
تاہم چائے کی قسم، مقدار اور اسے پینے کا درجہ حرارت بھی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔امریکی طبی جریدے ”جرنل آف انٹرنل میڈیسن” میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں چین کے بائیوبینک کے اعداد و شمار سے 4 لاکھ 85 ہزار 934 افراد کو شامل کیا گیا، جن کی اوسطاً 9.05 سال تک نگرانی کی گئی۔ اس عرصے کے دوران شریانوں اور دل و دماغ کی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے 14 ہزار 863 نئے کیسز سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے چائے پینے والوں میں مجموعی طور پر شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ 11.2 فیصد کم پایا گیا۔ ہفتہ وار چائے پینے والوں میں روزانہ تقریباً 6 سے 8 کپ چائے استعمال کرنے والوں میں خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا، تاہم محققین کے مطابق اس نتیجے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے اتنی مقدار میں چائے پینا ضروری یا مفید ہے۔تحقیق میں چائے کی قسم اور اسے پینے کے طریقے کے حوالے سے بھی فرق سامنے آیا۔ کالی چائے پینے والوں میں بیماریوں کے کم خطرے سے تعلق سبز چائے کے مقابلے میں زیادہ مستقل دیکھا گیا، جبکہ معتدل گاڑھی چائے پینے والوں میں بھی نسبتاً کم خطرہ سامنے آیا۔تحقیق میں چائے کے درجہ حرارت کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہت زیادہ گرم چائے پینے والوں میں امراض قلب کا خطرہ کم ہونے کے بجائے 16 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔ اس کے برعکس مناسب درجہ حرارت پر چائے پینا صحت کے لیے بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔تحقیق میں طرز زندگی کے دیگر عوامل کی اہمیت بھی سامنے آئی۔ باقاعدگی سے چائے پینے، تمباکو نوشی سے گریز اور زیادہ جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد میں بیماریوں کا خطرہ سب سے کم تھا۔ اس گروپ میں خطرہ تقابل کے لیے استعمال کیے گئے گروپ کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد کم پایا گیا۔محققین کا کہنا ہے کہ شریانوں کی صحت کو سمجھنے کے لیے صرف چائے پینے یا نہ پینے کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی مقدار، قسم، درجہ حرارت اور طرز زندگی کے دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تحقیق کے نتائج چائے پینے کی عادات اور بیماریوں کے خطرے کے درمیان تعلق ظاہر کرتے ہیں، تاہم ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چائے پینا بذات خود بیماریوں سے بچاؤ کی ضمانت ہے۔



















































