کراچی (این این آئی) پاکستان میں عوام دنیا کی مہنگی ترین مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سمیت متعلقہ اداروں کی موجودگی میں مبینہ طور پر ایل پی جی مافیا نے صرف پانچ روز کے دوران عوام کی جیبوں سے ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد وصول کرلیے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق پاکستان میں روزانہ 60 سے 65 ہزار کلوگرام ایل پی جی استعمال ہوتی ہے، تاہم موسم کی تبدیلی کے باعث اس کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور یومیہ طلب 70 ہزار کلوگرام تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت 280 روپے فی کلوگرام مقرر کر رکھی ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ گیس 600 روپے سے سوا 600 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔ اس طرح صارفین کو فی کلوگرام 320 روپے سے زائد اضافی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس حساب سے عوام صرف پانچ روز میں ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد اضافی رقم ادا کرچکے ہیں، جو مبینہ طور پر ایل پی جی مافیا کی جیبوں میں گئی ہے۔عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کی موجودگی کے باوجود گزشتہ پانچ روز سے ایل پی جی من مانی قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہے، لیکن اوگرا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور تاحال کسی پلانٹ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔اوگرا کے ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز سے اجلاسوں میں اس معاملے پر غور کیا جارہا ہے کہ ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کون کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کو ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور پلانٹس کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے، تاہم اب تک کسی پلانٹ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب بھر میں پیرا فورس نے 10 سے زائد دکان داروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔دکان داروں نے شکایت کی ہے کہ اس صورت حال میں انہیں ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں، کیونکہ ایل پی جی مافیا انہیں 550 روپے فی کلوگرام کے حساب سے گیس فراہم کر رہا ہے، تو وہ اسے 280 روپے میں کیسے فروخت کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ فورس کارروائی کے دوران گیس بھرنے کے آلات بھی لے جاتی ہے اور جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ دکان داروں کے مطابق وہ اس صورت حال سے تنگ آچکے ہیں اور کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔دوسری جانب ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ مکرم نے کہا ہے کہ تفتان بارڈر بند ہونے کے باعث ایل پی جی کی رسد متاثر ہوئی اور قلت پیدا ہونے سے قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق اوگرا کا نوٹیفکیشن بھی درست نہیں، کیونکہ گیس کی ترسیل کے اخراجات کے لیے 2010ئ کے حساب سے کرایہ مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کے ایک باؤزر کی ترسیل کا کرایہ 50 سے 60 ہزار روپے ہے، لیکن اوگرا اس مد میں مقررہ نرخوں پر نظرثانی نہیں کر رہا۔شیخ مکرم نے کہاکہ وہ چیئرمین اوگرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو درجنوں بار صورت حال سے آگاہ کرچکے ہیں، لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت حال میں کاروبار کیسے جاری رکھا جائے، کیونکہ اگر کاروبار بند کردیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔عرفان کھوکھر کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی ضرورت کا 70 فیصد درآمدات سے پورا کیا جاتا ہے، جبکہ 30 فیصد گیس ملکی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر صورت حال کا کنٹرول سنبھالے تاکہ عوام کو مقررہ اور مناسب قیمت پر ایل پی جی فراہم کی جاسکے۔



















































