اسلام آباد (این این آئی) سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے ہاتھوں آپریٹ ہورہے تھے اور یہی اطلاعات ہیں کہ مراد سعید افغانستان میں ہیں،
تحریک انصاف سے گالم گلوچ اور آگ لگانے کا مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہو رہا تھا،گورنر کے پی کے پاس 180 دن ہیں، اس دوران گورنر کو مانیٹر کیا جائے گا ، ان کے پاس ناکامی کا کوئی آپشن نہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں سینئر سیاستدان فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ جو آج نظر آ رہا ہے اس کی پیشگوئی 10 ماہ پہلے ہی کر دی تھی کہ ملک میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگے گا۔انہوںنے کہاکہ سہیل آفریدی کی نااہلی ہو گی اور ممکن ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی بھی لگ جائے، اس وقت جو ماڈل سامنے آ رہا ہے اس کا مقصد دہشت گردی کو روکنا ہے، اور بلوچستان میں جیسی بھی حکومت ہے وہ دہشت گردی کے خلاف معاونت کر رہی ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے موجودہ نظام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا یہ 500 ایلیٹ کیپچر کا ہی جمہوری نظام ہے؟ اس طرز کی جمہوریت سے ملک کو کیا ملا ہے؟ نئے لوگوں کو موقع ملنا چاہیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ سہیل آفریدی افغانستان سے مراد سعید کے ہاتھوں آپریٹ ہو رہے تھے، اور ان کے پاس یہی اطلاعات ہیں کہ مراد سعید اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔پی ٹی آئی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی سے گالم گلوچ اور آگ لگانے کا مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہو رہا تھا۔
گورنر خیبرپختونخوا اور صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی ان کے پرانے دوست ہیں اور گزشتہ رات بھی ان سے بات ہوئی ہے، گورنر کے پی کے پاس 180 دن ہیں، اس دوران گورنر کو مانیٹر کیا جائے گا اور ان کے پاس ناکامی کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ 180 دن میں ایڈوائزری کونسل کامیاب ہو گئی تو عوام باقیوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے گورنر نے 5 دن میں وہ کام کیے جو شاید اگلے 5 ماہ میں نہ ہوتے، اور اگر کے پی میں عوام کو ذرا سی بہتری ملی تو اس کے مثبت نتائج پورے ملک میں نظر آئیں گے۔سیاسی شخصیات سے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صدر آصف زرداری ان کے لیے انتہائی قابلِ عزت ہیں اور مولانا فضل الرحمن سے بھی بہت اچھا رشتہ ہے، مولانا ہمیشہ اپنی فوج اور قربانیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ریبوٹ کا بٹن دب چکا ہے اور جمہوریت واپس اپنے ٹریک پر آ رہی ہے، اب سیاست میں سروائیو کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنی کارکردگی دکھائی جائے، جو کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ گھر جائے گا۔



















































