اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے وفاقی محاصل میں کمی کے تناظر میں صوبے کی مالی پالیسی مزید سخت کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری فیسوں اور سبسڈی سے متعلق اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی آمدن میں اضافے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ پنجاب نے صوبائی محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مختلف سرکاری خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیسوں میں کمی یا مکمل چھوٹ دینے سے متعلق تجاویز پیش نہ کی جائیں۔ محکموں کو ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے۔محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خدمات کی فیسوں، سروس چارجز اور دیگر واجبات میں رعایت یا معافی کی تجاویز کو پالیسی سفارشات کا حصہ نہ بنایا جائے۔ یہ وصولیاں صوبائی حکومت کے مالی وسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران اپنے وسائل سے آمدن بڑھا کر مقررہ مالی اہداف پورے کرنا چاہتی ہے۔
اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو اپنی آمدن میں اضافے کے امکانات تلاش کرنے اور مالی وسائل بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔سرکاری فیسوں کی شرح میں ممکنہ تبدیلیوں اور موجودہ رعایتوں کے خاتمے سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ محکموں کی سفارشات اور حکومتی منظوری کے بعد ہوگا۔ مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن میں اضافہ کرکے صوبائی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔



















































