اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے تنخواہ دار ملازمین کو ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی کے لیے جاری کیے جانے والے نوٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق وصول کیے گئے ایڈوانس ٹیکس کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ایسے سرکاری اور نجی ملازمین کو بھی ہر تین ماہ بعد ایڈوانس انکم ٹیکس جمع کرانے کے نوٹس موصول ہورہے تھے جن کی آمدن کا واحد ذریعہ ماہانہ تنخواہ ہے۔ اس معاملے پر تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ایف بی آر کے چیئرمین نے مداخلت کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راشد محمود لنگڑیال نے واضح کیا ہے کہ جن افراد کے اخراجات اور گزر بسر صرف تنخواہ پر منحصر ہیں، ان سے ایڈوانس انکم ٹیکس طلب کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایڈوانس انکم ٹیکس کا معاملہ ان افراد کے لیے مختلف ہوسکتا ہے جنہیں ماہانہ تنخواہ کے علاوہ بھی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کرایے سے حاصل ہونے والی رقم، کاروباری منافع یا دیگر ذرائع سے ہونے والی کمائی شامل ہوسکتی ہے۔
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تنخواہ دار ملازمین سے متعلق جاری کردہ نوٹسز کا جائزہ لیا جائے اور قواعد کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار افراد سے کاٹے گئے ایڈوانس انکم ٹیکس کو بھی فوری طور پر ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ان ملازمین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جن کی آمدن کا واحد ذریعہ ان کی ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کی ہدایات پر عمل درآمد کے بعد ایسے سرکاری اور نجی ملازمین کو ایڈوانس انکم ٹیکس کے نوٹسز جاری کرنے کا سلسلہ روکنے کی توقع ہے۔ تاہم اس معاملے میں حتمی طریقۂ کار اور ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق متعلقہ قواعد اور ایف بی آر کی باضابطہ ہدایات کے مطابق ہوگا۔



















































