راولپنڈی (نیوز ڈیسک) تھانہ صادق آباد کے علاقے میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آنے کا انکشاف ہوا ہے۔
بچی لاہور سے اپنی دادی کے ہمراہ رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے راولپنڈی آئی تھی۔ والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے معاملہ دبانے کی کوشش کی۔ پولیس نے درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے پولیس کو بتایا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے اور انہوں نے 23 ستمبر 2026 کو اپنی آٹھ اور چھ سالہ بیٹیوں کو دادی کے ساتھ راولپنڈی روانہ کیا تھا، جہاں انہیں حیدر علی کی بہن کی شادی میں شرکت کرنا تھی۔
والد کے مطابق لاہور واپسی پر بڑی بیٹی خوف زدہ تھی اور اس نے اپنی والدہ کو جسمانی تکلیف کی شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ 25 ستمبر کی رات راولپنڈی میں قیام کے دوران مبینہ طور پر حیدر علی اسے سوتے ہوئے دوسرے کمرے میں لے گیا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ بچی کے بیان کے مطابق اس نے درد کے باعث شور مچایا تو ملزم نے اس کا منہ بند کیا اور کسی کو واقعے کے بارے میں بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بچی کی طبیعت اور شکایت کے پیش نظر اسے ایک خاتون گائناکالوجسٹ کے پاس لے جایا گیا۔ ان کے بقول، ڈاکٹر نے مزید معائنے کے لیے سرکاری اسپتال سے رجوع کرنے اور قانونی کارروائی کا مشورہ دیا۔
والد نے الزام لگایا کہ بچی نے واقعے کے بارے میں اپنی دادی کو بھی آگاہ کیا تھا، تاہم مبینہ طور پر دادی کے رشتہ داروں اور ملزم کے اہل خانہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ درخواست کے مطابق انہیں یہ کہہ کر خاموش رہنے کا کہا گیا کہ گھر میں شادی کی تقریبات جاری ہیں اور واقعہ سامنے آنے سے خاندان میں بدنامی ہوگی۔
درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بچی اور اس کی دادی کو مبینہ طور پر دھمکایا گیا کہ وہ لاہور واپس جاکر والدین کو کچھ نہ بتائیں۔ ان کے مطابق آیان علی نامی ایک اور رشتہ دار کو بھی واقعے کا علم تھا اور اس نے بھی بچی کو ذہنی دباؤ میں رکھا۔
والد نے پولیس سے درخواست کی کہ مبینہ مرکزی ملزم کے علاوہ ان افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں جن پر واقعے کو چھپانے اور بچی کو ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
درخواست گزار کے مطابق مبینہ طور پر معاملہ چھپانے کی کوششوں اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث لاہور سے راولپنڈی آنے جانے والے راستے بند ہونے کی وجہ سے پولیس سے فوری رجوع کرنے میں تاخیر ہوئی۔
پولیس نے شہری کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے سے متعلق الزامات کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔



















































