اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مچھر بھگانے کے لیے گھروں میں استعمال ہونے والی کوائل سے متعلق ماہرین صحت نے اہم احتیاطی ہدایات جاری کرتے ہوئے اس کے دھوئیں کے ممکنہ منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گندگی، ناقص صفائی اور موسم میں تبدیلی جیسے عوامل مچھروں کی افزائش میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، جس کے باعث شہری علاقوں میں بھی مچھر مار کوائل کے استعمال میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک کوائل اگر مسلسل 7 سے 8 گھنٹے تک جلائی جائے تو اس سے خارج ہونے والے باریک ذرات کی مقدار تقریباً 70 سے 137 سگریٹ کے دھوئیں کے برابر ہوسکتی ہے۔ خصوصاً بند اور کم ہوادار کمرے میں اس دھوئیں کا اثر زیادہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کوائل جلنے کے دوران کاربن مونو آکسائیڈ، بینزین اور دیگر کیمیائی اجزا خارج ہوسکتے ہیں، جو آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن پیدا کرنے کے علاوہ کھانسی، سر درد، تھکن اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کا باعث بن سکتے ہیں۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں اور دمے یا دیگر سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو کوائل کے دھوئیں سے زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اس لیے بند کمروں میں مچھر مار کوائل کے استعمال سے حتی الامکان گریز یا احتیاط کی جائے اور اگر استعمال ضروری ہو تو کمرے میں ہوا کی مناسب نکاسی اور آمدورفت یقینی بنائی جائے۔



















































