اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت میں کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں عدالت نے ملزم کو عمر بھر جیل میں رکھنے کا حکم دے دیا،
جبکہ متاثرہ بچی کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے معاوضہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مقدمہ اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنا جب متاثرہ بچی، جو واقعے کے وقت صرف 7 برس کی تھی، نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص کو اس وقت تک جیل سے باہر نہ آنے دیا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے۔روہنی کی خصوصی پوکسو عدالت کی جج رجنی رنگا نے ملزم سُمِت شکلا کو عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ بچی کے لیے ایک خصوصی پیغام بھی شامل کیا، جس میں اسے بہادر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت نے اس کی بات سنی اور اس کی درخواست کو منظور کیا ہے۔جج نے بچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجرم اب اپنی باقی زندگی جیل میں گزارے گا، جبکہ اسے اپنی زندگی آگے بڑھانے، اسکول جانے، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے، کھیلنے اور اپنے خواب پورے کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔دہلی ہائی کورٹ نے شمال مغربی دہلی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ جج کی جانب سے بچی کے لیے تحریر کیا گیا پیغام پرنٹ کرکے دو ہفتوں کے اندر اسے یا اس کے اہل خانہ تک پہنچایا جائے۔ عدالت نے معاوضے کی رقم کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔22 ستمبر کو جاری کیے گئے عدالتی حکم کے مطابق متاثرہ بچی کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔مقدمے میں سزا پانے والے شخص اور شکایت کنندہ کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی،
تاہم عدالت نے سزا معطل کرنے اور ملزم کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد اور فرانزک مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ مرحلے پر سزا معطل کرنے کی کوئی مناسب وجہ موجود نہیں۔ عدالت کے مطابق ملزم کو باقی زندگی قید میں گزارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق سُمِت شکلا متاثرہ بچی کا محلے دار تھا اور بچی اسے ’انکل‘ کہہ کر پکارتی تھی۔ عدالت کے ریکارڈ میں اسے کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔یہ واقعہ 23 جولائی 2023 کو دہلی میں پیش آیا تھا، اس وقت متاثرہ بچی کی عمر 7 سال تھی، جبکہ اب اس کی عمر 10 سال ہے۔ واقعے کا مقدمہ بدھ وہار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور کیس کی کارروائی بھارت کے پوکسو قانون کے تحت کی گئی۔



















































