منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟

datetime 22  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کویت میں اپنی شہریت سے محروم ہونے والی بڑی تعداد میں خواتین نے قانونی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے شامی شہریت کے حصول کی کوشش شروع کردی ہے، جس کے لیے اب تک 1277 درخواستیں شامی سفارت خانے کو موصول ہوچکی ہیں۔

شامی سفارت خانے کے ناظم الامور تمیم المدنی کے مطابق شہریت کے لیے درخواستیں ان خواتین نے جمع کرائی ہیں جن کی کویتی شہریت منسوخ ہوچکی ہے اور وہ شامی شہریت سے متعلق اپنی قانونی حیثیت مکمل کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سفارت خانہ موصول ہونے والی درخواستوں کے ساتھ ضروری دستاویزات کی تکمیل میں مصروف ہے۔ کاغذات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کیسز کی فائلیں شام میں موجود حکام کو ارسال کی جائیں گی، جبکہ سفارت خانہ ان معاملات کی پیش رفت پر بھی نظر رکھے گا۔

تمیم المدنی کے مطابق اب تک 1270 درخواستوں پر کارروائی مکمل کی جاچکی ہے جبکہ دیگر کیسز کی جانچ اور دستاویزات مکمل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد درخواست گزار خواتین کے شہریت سے متعلق معاملات کو قانونی طریقے سے مکمل کرنا ہے۔

شامی سفارت خانے کے عہدیدار نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے اب تک کویت میں سفارت خانے کی جانب سے فراہم کی جانے والی قونصلر خدمات کی تعداد 46 ہزار 852 تک پہنچ گئی ہے۔ ان خدمات میں کویت میں مقیم شامی شہریوں کے مختلف قونصلر امور نمٹانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت خانہ شامی کمیونٹی کو مختلف نوعیت کی قونصلر سہولتیں فراہم کررہا ہے۔ درخواستوں کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اپائنٹمنٹ اور انتظار کی قطاروں کو منظم کرنے کے ساتھ درخواست گزاروں کو ضروری دستاویزات اور مطلوبہ کارروائی سے متعلق پیشگی معلومات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

سفارت خانے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد قونصلر معاملات کو منظم انداز میں نمٹانا اور شہریوں کے لیے درخواستوں کی تکمیل کا عمل زیادہ آسان بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…