اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے زرمبادلہ کے خالص ذخائر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ ذخائر 2022 کے معاشی بحران کے دوران ریکارڈ کی گئی سطح کے مقابلے میں 7.6 گنا زیادہ ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سالانہ بنیادوں پر 70 فیصد کمی ہوئی۔ اسی عرصے میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کے شعبے نے بھی بہتری دکھائی، جس کی پیداوار میں سالانہ 3 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران کارپوریٹ سیکٹر کے منافع میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی شرح بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ گئی۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2027 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 17 فیصد اضافے کے بعد 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب ڈیجیٹل ایکسپورٹس سے متعلق خدمات میں سالانہ 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے میں آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات میں 17 فیصد جبکہ فری لانسرز کی آمدن میں 42 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 316 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیادوں پر 80 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 77 فیصد زیادہ ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے مجموعی طور پر آنے والی رقوم کا حجم 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سسٹین ایبل پانڈا بانڈ کو کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کیپٹل مارکیٹس میں انویسٹ پاک کے ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 12 ہزار 800 ہوگئی ہے۔ رواں مالی سال 2027 کے دوران اب تک 5 آئی پی اوز مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ مالی سال 2026 میں مجموعی طور پر 11 آئی پی اوز ہوئے تھے۔



















































