پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

یو اے ای ویزا ختم یا منسوخ ہونے پر پاکستانی کیا کریں؟ اہم ہدایات

datetime 14  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا ختم یا منسوخ ہونے کی صورت میں نئی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ ویزا یا ورک پرمٹ کی مدت مکمل ہونے کے بعد غیر معینہ مدت تک امارات میں قیام قانونی نہیں، تاہم بعض حالات میں افراد کو نئی قانونی حیثیت حاصل کرنے یا ملک سے روانگی کے لیے مخصوص مہلت دی جاتی ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پاکستان کے مطابق اماراتی قوانین میں ویزا کی قسم اور کیٹیگری کے لحاظ سے گریس پیریڈ مختلف ہوسکتا ہے۔ دستیاب مہلت عام طور پر 30 دن سے 180 دن تک ہوتی ہے۔ اس دوران متاثرہ افراد نیا روزگار تلاش کرکے نئے ویزا کے ذریعے اپنا قیام قانونی بناسکتے ہیں یا مقررہ تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان واپس جاسکتے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ درست ورک پرمٹ اور ملازمت کے معاہدے کے بغیر کام کرنا یا مقررہ مہلت گزرنے کے بعد غیر قانونی طور پر امارات میں موجود رہنا سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ، حراست، ملک بدری اور مستقبل میں متحدہ عرب امارات میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ویزا اور ورک پرمٹ منسوخ ہونے کی آخری تاریخ کی تحریری تصدیق ضرور حاصل کریں۔ اس کے ساتھ پاسپورٹ، ایمریٹس آئی ڈی، ملازمت کا معاہدہ اور تنخواہ سے متعلق دستاویزات سمیت تمام اہم ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

حکام نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کسی نئے آجر کے محض زبانی وعدے پر کام شروع نہ کیا جائے بلکہ ملازمت اور ورک پرمٹ سے متعلق قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔

زیر کفالت اہلِ خانہ کے ویزوں کی حیثیت بھی بروقت جانچنا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ ویزا ختم ہونے کے بعد اضافی قانونی مشکلات پیدا نہ ہوں۔

شہری اپنی قانونی حیثیت اور دستیاب مہلت کی تفصیلات جاننے کے لیے متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی فار آئیڈنٹیٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی کے آن لائن اسمارٹ سروسز پورٹل سے بھی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاسپورٹ کی تفصیلات، ایمریٹس آئی ڈی یا فائل نمبر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…